رپورٹ ؤائس اف جرمنی فرینکفرٹ
عید الفطر کے مقدس دن پنجاب میں بعض مقامات پر احمدیوں سے عبادت گاہیں خالی کرا کے فریضہ عید کی ادائیگی سے پولیس نے زبردستی روک دیا۔
چار دیواری میں بھی مذہب پر عمل کرنے کی اجازت نہ دے کر سپریم کورٹ کے فیصلہ کی واضح خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔:ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان
چناب نگر۔پ ر۔عید کے روز 21 مارچ 2026 کو پنجاب پولیس نے بعض مقامات پر حکومت پنجاب کے احکامات کا حوالہ دے کر احمدیوں کو عید کی عبادت سے روکتے ہوئے احمدیوں کو ہراساں کیا اور عبادت گاہوں کو زبردستی خالی کرا کے تالے لگا دیے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے چند اضلاع میں پولیس نے احمدیوں کو عید کی عبادت سے روک دیا۔ گوجرانوالہ میں انتظامیہ نے عید کی عبادت سے منع کر دیا۔ سیالکوٹ میں 6 مقامات میں انتظامیہ نے عید کی عبادت نہیں کرنے دی۔ فیصل آباد میں پولیس نے احمدی عبادت گاہ کو زبردستی خالی کروا لیا۔ سرگودھا میں مختلف مقامات پر پولیس نے احمدی عبادت گاہوں کو خالی کروا کر تالے لگا دیے گئے۔
ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان عامر محمود نے انتظامیہ کی جانب سے محب وطن اور پرامن احمدیوں کو عید کی عبادت سے روکنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی عقائد اور ان پر عمل کرنے کی آزادی ایک مسلمہ انسانی حق ہے جسے انسانی حقوق کے عالمی منشور میں دفعہ 18اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 20میں تسلیم کرتے ہوئے اس کی ضمانت دی گئی ہے۔سرکاری انتظامیہ کی جانب سے احمدیوں کو عید کی عبادت کرنے سے روکنے کے بلاجواز اقدامات آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 اور جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور جسٹس امین الدین خان صاحب پر مشتمل سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ کے12 جنوری 2022 کو دیے گئے فیصلے کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ سپریم کورٹ نے Cr1.P.916-L/2021میں قرار دیا تھا کہ احمدی اپنی چار دیواری کے اندر اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی رکھتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ریاست پاکستان کے ذمہ دار متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان میں انتہا پسندی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ریاست کے اعلیٰ حکام کی جانب سے واضح اور دوٹوک موقف کے باوجود بعض جگہ پر انتظامیہ کے چند افسران نے احمدیوں کو عید کی عبادت سے بلاجواز روکا جس سے وطن عزیز کی نیک نامی کو ٹھیس پہنچی۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ آئین پاکستان کی مذہبی آزادی کی ضمانت اور ریاست کے ذمہ داران کی جانب سے انتہا پسندی کو مسترد کرنے کے عزم کو انتظامیہ کے اقدامات میں بھی جھلکنا چاہئے اور احمدیوں کے حقوق کی پامالی سے باز آجانا چاہئے۔

