جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

1774431501 FotoJet


وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی  قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔

FotoJet

علامتی تصویر، فوٹو: وکی پیڈیا

بیس  مارچ 2003 کو جب دوسری خلیجی جنگ شروع ہوئی، تو اس سے بس تین ماہ قبل ہی پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بطور غیر مستقل رکن اپنی مدت کا آغاز کیا تھا۔ یعنی سر منڈواتے ہی اولے پڑ گئے تھے۔

چونکہ اس جنگ کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا تھا، پاکستان کی پوزیشن نازک بنی ہوئی تھی۔ ایک طرف وہ عالمی دہشت گردی سے نپٹنے اور افغانستان میں جاری کارروائیوں  میں امریکہ کا حلیف تھا، دوسری طرف اپنے حلیف کی طرف سے ایک مسلم ملک پرجارحیت اور قبضہ ہوگیا تھا۔

 اس  نازک صورتحال کی وجہ سے پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے اسلام آباد میں وزارت خارجہ سے موقف جاننے کے لیے رجوع کیا۔ جب وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے صدر پرویز مشرف سے ہدایات طلب کی تو بتایا جاتا ہے کہ صدر نے کہا کہ پاکستان کو موقف اختیار کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔

ان کے مطابق یہ بڑی طاقتوں کے معاملات ہیں، پاکستان، جس کے اپنے معاملات دگرگوں ہیں، کوآخر ان سفارتی الجھنوں میں الجھنے کی ضرورت نہیں ہے؟ مگر جب ان کو یاد دلایا گیا کہ پاکستان اس وقت سلامتی کونسل کا رکن ہے، اس لیے اس کو ووٹنگ کرنی ہے، جس کے لیے واضح سفارتی موقف اختیار کرنا ہے۔

تو بتایا جاتا ہے کہ مشرف پہلے تو بگڑ گئے اور پوچھا کہ پاکستان کو دنیا کی اس اعلیٰ ترین میز پر بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی؟ خیر بعد میں پاکستان نے نہایت محتاط، قانونی اور کثیرالجہتی اصولوں پر مبنی موقف اختیار کیا۔

 پاکستان نے امریکہ کی قیادت میں ہونے والے یکطرفہ حملے کی حمایت نہیں کی اور اسے بین الاقوامی قانون کے لیے نقصاندہ قرار دےکر حملہ کو اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر اقدام قرار دیا۔

یہی کچھ صورتحال اس وقت ہندوستان کے سامنے درپیش ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی  قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔

پچھلے کئی برسوں سے اپنے آپ کو گلوبل ساؤتھ کا لیڈر اور وشو گرو کا لقب دینے کے بعد خاموشی مصلحت نہیں، بلکہ دنیا کی لیڈرشپ کے دعوے سے دستبرداری بن گئی ہے۔

گو کہ پیشتر اپوزیشن پارٹیاں اور سابق سفارت کار اس خاموشی پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، کانگریسی لیڈر ششی تھرور، جنہیں طویل عرصے تک ہندوستان کے سب سے زیادہ عالمی سطح پر معروف اور منجھے ہوئے سفارت کاروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے،  نے اپنی پارٹی کے موقف سے ہٹ کر نئی دہلی کی اس نام نہاد ‘ذمہ دارانہ’ خاموشی کا دفاع کیا ہے۔ تھرور کا یہ موقف نہ صرف حیران کن ہے بلکہ زمینی حقائق سے بھی مکمل طور پر میل نہیں کھاتا ہے۔

 سفارت کاری کا ایک ادنیٰ سا طالبعلم بھی بتا سکتا ہے کہ یہ کوئی ایسا دور افتادہ تنازعہ نہیں ہے جسے ہندوستان محض ایک تماشائی بن کر دور سے دیکھتا رہے۔ یہ آگ براہِ راست ہندوستان کے تزویراتی (اسٹریٹجک)، توانائی، معاشی اور مغربی ایشیاء میں  مقیم کروڑوں ہندوستانیوں کے مفادات کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

ایسے وقت میں جب ہندوستان دنیا کے سامنے خود کو ‘گلوبل ساؤتھ’ کی آواز اور ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت  کے طور پر پیش کرنے کا دعویدار ہے، وہاں اس طرح کی خاموشی مصلحت یا تدبر نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار اور ‘دستبرداری’ ہے۔

جس ملک نے 2023 میں جی-20 سربراہی اجلاس کی میزبانی بڑے طمطراق اور ‘  وسودھیوا کٹمبکم ‘ یعنی تمام انسانیت  ایک ہی خاندان کا حصہ ہے، کے نعرے کے ساتھ کی ہو، اس کے پاس اتنا سفارتی سرمایہ اور پلیٹ فارم موجود تھا کہ وہ اس خونی کھیل کو رکوانے کے لیے جی-20، برکس  یا دیگر کثیر جہتی فورمز کا ہنگامی اجلاس طلب کرسکتا تھا۔

نئی دہلی یا نیویارک میں عالمی طاقتوں کو دستک دے کر فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنا وقت کی اہم ترین ضرورت تھی، مگر مصلحت پسندی کے پردے میں یہ موقع گنوا دیا گیا۔

ہندوستان کے سابق قومی سلامتی مشیر اور منجھے ہوئے سفارت کار شیو شنکر مینن، جو عام طور پر حکومتی پالیسیوں پر سرِ عام تنقید سے گریز کرتے ہیں، اس بار وہ بھی خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں ان کے لہجے کی تلخی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ مینن نے نئی دہلی کی خاموشی کو ایک ‘خطرناک روایت’ قرار دیتے ہوئے کہاکہ؛

‘ہماری خاموشیاں اور ہمارے اقدامات، سچی بات یہ ہے کہ بالکل ناقابل فہم ہیں۔ ایک ایسے ملک کے سربراہ کے قتل پر، جسے آپ باقاعدہ تسلیم کرتے ہوں اور جو آپ کے پڑوس میں واقع ہو، ایک لفظ بھی نہ کہنا نہ صرف سفارتی کوتاہی ہے بلکہ یہ ‘ناقابل معافی’ ہے۔ یہ ایک ایسا پیٹرن بنتا جا رہا ہے جو ہندوستان کی اس ‘آزاد خارجہ پالیسی’ کی بنیادیں ہلا رہا ہے جس پر ہمیں کبھی فخر تھا۔’

مینن کا یہ تجزیہ محض جذباتی نہیں بلکہ خالصتاً تزویراتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب آپ اصولی موقف سے پیچھے ہٹتے ہیں، تو آپ اپنی عالمی اخلاقی برتری  کھو دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ،’اگر ہم آج ایران کے معاملے پر خاموش ہیں، تو کل کو جب ہمارے اپنے مفادات پر زد پڑے گی، تو ہم کس بنیاد پر دنیا سے حمایت کی توقع رکھیں گے؟۔’

سال  1979 میں جب چین نے ویتنام پر حملہ کیا۔ اس وقت ہندوستان  کے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی بیجنگ کے سرکاری دورے پر تھے۔ جیسے ہی انہیں اس حملے کی خبر ملی، انہوں نے اپنے تمام شیڈول منسوخ کر دیے، اپنا دورہ مختصر کیا اور احتجاجاً فوراً وطن واپس لوٹ آئے۔

اس ایک فیصلے نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہندوستان اپنی اقدار اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا، چاہے میزبان کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔مودی حکومت کے پاس اس سے بھی بہتر موقع تھا۔ اسرائیل کے ساتھ اس کے کھلے چینلز اور تل ابیب میں اپنے اثر و رسوخ اور تزویراتی وزن کی بدولت، نئی دہلی اپنی پوزیشن کو جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔

لیکن اس کے برعکس، حکومت نے ایسی احتیاط برتی جو بزدلی کی سرحدوں کو چھو رہی ہے۔ بحران کے وقت عالمی قیادت خاموشی سے نہیں، بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔ مغربی ایشیا کے معاملے پر ہندوستان اب تک اس امتحان میں ناکام نظر آتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ نئی دہلی میں شاید یہ خاموش اتفاق رائے تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حملے ایرانی حکومت کو دنوں میں گرا دیں گے۔ تہران میں حکومت کی تبدیلی کے خواب دیکھنے والوں نے ایران کی تاریخ اور اس کی عوام کی ‘صبر و تحمل’ کی طاقت کو فراموش کر دیا۔سریناتھ راگھون، جو ایک مایہ ناز مؤرخ ہیں، اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں؛

ہندوستانی حکومت نے ایران کی اس صلاحیت کو بہت کم تر سمجھا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود نہ صرف کھڑا رہے گا بلکہ جوابی وار بھی کرے گا۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ‘باہمی انحصار’ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے اور عالمی معیشت پر بھاری قیمت عائد کر سکتا ہے۔

ایران نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ میں وہ کچھ جھیلا ہے جس کا تصور بھی جدید دنیا نہیں کر سکتی۔ تب پوری دنیا صدام حسین کے ساتھ تھی، لیکن ایران نہیں گرا۔ آج کے پالیسی سازوں کو تاریخ کے ان اوراق کو دوبارہ الٹنا چاہیے۔

گزشتہ ہفتہ  وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کو اس تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ مودی نے مغربی ایشیا میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے پیش نظر بحری گزرگاہوں کو ‘کھلا اور محفوظ’ رکھنے پر زور دیا۔ایران کی طرف سے اس گفتگو کا جو خلاصہ پیش کیا گیا، اس کے مطابق یہ خاصی کشیدہ ماحول میں ہوئی ہے۔

ایرانی صدر نے ہندوستانی وزیر اعظم کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی صدر نے ایک ایسی علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی تجویز پیش کی جس میں صرف مغربی ایشیا کے ممالک شامل ہوں اور جو ‘بیرونی مداخلت’ کے بغیر خطے میں امن قائم کرے۔ پزشکیان نے مودی سے مخاطب ہو کر کہا؛

‘ہندوستان کو برکس  کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے اپنا ‘آزادانہ کردار’ ادا کرنا چاہیے تاکہ امریکہ اور اسرائیل کی اس ننگی جارحیت کو روکا جا سکے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن ہم اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ بھی نہیں کریں گے۔’

پزشکیان نے واشنگٹن کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، اور یاد دلایا کہ ایران کے سپریم لیڈر نے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف واضح مذہبی اور انتظامی احکامات جاری کر رکھے تھے۔

ایرانی صدر نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایرانی فضائی حدود کے باہر سے کیا گیا تھا۔ ہندوستان، جس کے ایران کے ساتھ صدیوں پرانے تہذیبی، ثقافتی اور تزویراتی تعلقات ہیں، اس واقعے پر مکمل طور پر خاموش رہا۔

اس تاثر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب مودی جی نے تنازعہ شروع ہونے سے محض 48 گھنٹے پہلے اسرائیل کا ہائی پروفائل دورہ کیا اور اسرائیلی پارلیامنٹ ‘کنیسٹ’ سے خطاب کیا۔ وہاں انہیں جس گرمجوشی سے خوش آمدید کہا گیا، اس نے تہران اور دیگر عرب ممالک میں ایک منفی پیغام بھیجا۔ اگرچہ بعد میں جب توانائی کی قیمتیں بڑھیں اور سپلائی چین متاثر ہوئی، تو نئی دہلی نے تہران سے رابطہ کر کے اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کی۔

کانگریس کے سینئر رہنما منی شنکر ائیر، جو اپنے کاٹ دار لہجے کے لیے مشہور ہیں، نے اس صورتحال پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا؛

‘نہرو اور اندرا گاندھی کا ہندوستان  وہ تھا جو فلسطین کے حقوق کے لیے سب سے پہلے آواز اٹھاتا تھا، جو نسل پرست جنوبی افریقہ کے خلاف عالمی مہم چلاتا تھا۔ آج کا ہندوستان محض واشنگٹن کا ایک ‘جونیئر پارٹنر’ بن کر رہ گیا ہے۔ ہم روس سے سستا تیل خریدنے کی اجازت ملنے پر تو خوش ہوتے ہیں، لیکن اسی روس کے اتحادی ایران پر ہونے والے مظالم پر زبان نہیں کھولتے۔ یہ ہماری تزویراتی خود مختاری کا جنازہ ہے۔’

منیش تیواری نے بھی پارلیامنٹ میں سوال اٹھایا کہ کیا ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب ‘کارپوریٹ مفادات’ اور ‘امریکی خوشنودی’ کے گرد گھوم رہی ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ،’تاریخ ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو حق اور باطل کی جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔’ ہندوستان کے لیے مغربی ایشیا محض نقشے پر ایک خطہ نہیں ہے۔ بلکہ 50 فیصد سے زائد خام تیل کی درآمدات اور 90 فیصد ایل پی جی اسی خطے سے آتی ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر، وہاں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی محنت کش مقیم ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر کازرِ مبادلہ  بھیجتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو ہندوستان کے دیہی علاقوں میں معیشت کا پہیہ رواں رکھتی ہے۔اگر یہ خطہ غیر مستحکم ہوتا ہے، تو اس کا اثر ہ کے ہر چولہے پر پڑے گا۔ جب امریکہ نے اپنے بحری بیڑے خلیج فارس کی طرف روانہ کیے تھے، تب ہی یہ واضح تھا کہ ایک بڑا ٹکراؤ ہونے والا ہے۔ لیکن ہندوستان کے پاس اس ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی پیشگی منصوبہ نظر نہیں آیا۔

 سریناتھ راگھون کے مطابق،’ایک ایسے ملک کے لیے جس کے اتنے بڑے مفادات خلیج میں وابستہ ہوں، تزویراتی پیش بینی کا نہ ہونا ایک مجرمانہ غفلت ہے۔’

اگرچہ تہران نے سرکاری طور پر ہندوستان کے رویے پر کوئی سخت احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا، لیکن ایرانی میڈیا کی تلخی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ فارسی اخبارات اس بات پر حیران ہیں کہ ہندوستان جیسے ‘پرانے دوست’ نے میناب کے اسکول پر امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والے 168 بچوں کے لیے ایک تعزیتی جملہ تک ادا نہیں کیا۔

ایران نے چین، ترکیہ اور پاکستان جیسے ممالک کو تو اپنے پانیوں سے گزرنے کی ضمانت دے دی ہے، لیکن ہندوستان کو تاحال ‘انتظار کرو اور دیکھو’ کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔  ایران کا یہ رویہ بتاتا ہے کہ وہ ہندوستان کے ‘دوغلے پن’ سے مایوس ہے۔

آنے والے مہینوں میں ہندوستان کو ‘برکس’ سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنی ہے، جس میں اب ایران بھی ایک مکمل رکن ہے۔ یہ ہندوستان کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرے۔ لیکن اس کے لیے بھارت کو  ‘کواڈ’ یعنی چین کو روکنے کے نام پر بنائے گئے اتحاد جس میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا شامل ہیں کی زنجیروں سے تھوڑا باہر نکلنا ہوگا۔

جیسا کہ شیو شنکر مینن نے اپنے تجزیے  میں کہا،’سفارت کاری صرف رسی پر چلنے کا نام نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی رسی سے اتر کر زمین پر کھڑے ہونے اور سچ کہنے کا نام بھی ہے۔ اگر ہندوستان آج سچ نہیں کہتا، تو کل تاریخ اسے ایک ‘خاموش تماشائی’ کے طور پر یاد رکھے گی۔’

مغربی ایشیا کا یہ آتش فشاں ابھی بجھا نہیں ہے۔ اسرائیل نے ایرانی وزیر انٹلی جنس اسماعیل خطیب اور اب سیکورٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنا کر یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ رکنے والا نہیں ہے۔

ہندوستان کی مسلسل خاموشی اب ‘رضامندی’ کے طور پر پڑھی جا رہی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ نئی دہلی اپنی ‘تزویراتی خود مختاری’ کے دعوؤں کو عمل سے ثابت کرے، ورنہ ‘گلوبل ساؤتھ’ کی قیادت کا خواب صرف ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔

اور یاد رہے، تاریخ کے کٹہرے میں خاموشی بھی ایک جرم سمجھی جاتی ہے۔ہوسکے تو 2003میں بطور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ممبر ہونے اور امریکہ کا حلیف ہوتے ہوئے بھی لاتعداد داخلی مشکلات کے باوجود پاکستان نے جس طرح ایک توازن برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی، اسی سے ہندوستان  کو کچھ سبق حاصل کر لینا چاہیے۔

ہندوستان میں کچھ لوگ کہیں گے کہ پاکستان ایک دشمن ملک  ہے اس سے سبق حاصل کرنے کا درس دینے والے تو غداروں اور ملک دشمنوں کی فہرست میں آئیں گے، مگر کبھی کبھی اور کسی وقت دشمن کے طریقہ کار سے بھی سیکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ