ہوسٹن: ناسا کے آرٹیمس دوم (Artemis II) مشن نے 6 اپریل 2026 کو ایک شاندار تاریخی کامیابی حاصل کی۔ چار خلابازوں پر مشتمل عملے نے چاند کے گرد پرواز مکمل کرتے ہوئے انسانوں کو زمین سے سب سے زیادہ دور لے گیا۔ اوریون خلائی جہاز نے اپولو 13 کے 1970 کے ریکارڈ کو توڑتے ہوئے تقریباً 248,655 میل (تقریباً 400,171 کلومیٹر) سے زیادہ فاصلہ طے کیا، اور مشن کے زیادہ سے زیادہ نقطے پر یہ فاصلہ تقریباً 252,756 میل (406,777 کلومیٹر) تک پہنچ گیا۔
مشن کمانڈر ریڈ وائزمین، پائلٹ وکٹر گلوور، مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ (ناسا) اور جیریمی ہینسن (کینیڈین اسپیس ایجنسی) نے اوریون خلائی جہاز "انٹیگریٹی” میں سوار ہو کر چاند کے دورانی حصے (far side) کے قریب سے گزرتے ہوئے زمین کے نایاب زاویوں سے تصاویر بھی حاصل کیں۔ اس دوران عملے نے چاند کے پیچھے ہونے کی وجہ سے تقریباً 40 منٹ تک زمین سے رابطہ کھو دیا تھا، جو متوقع تھا۔
مشن 1 اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کے ذریعے کامیابی سے لانچ کیا گیا تھا۔ یہ 50 سال سے زائد عرصے بعد انسانوں کا چاند کی طرف پہلا کریوڈ ٹیسٹ فلائٹ ہے۔ اب خلاباز زمین کی طرف واپسی کے مرحلے میں ہیں اور متوقع ہے کہ وہ 10 اپریل 2026 کو پیسیفک اوشن میں splashdown کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مستقبل میں مریخ پر انسانی مہم جوئی کے لیے اہم ٹیکنالوجیز اور ڈیٹا فراہم کرے گا۔ عالمی سطح پر اسے سائنس اور خلائی تحقیق کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

