سمراٹ کا وزیر اعلیٰ بننا بند کمرے میں مودی-شاہ کی سیاست کی جیت کا جشن ہے

Nitish Kumar Samrat Chaudhry FB photo


نریندر مودی اور امت شاہ کی زندگی کی ایک بڑی حصولیابی یہ ہے کہ انہوں نے ثابت کر دیا کہ بہار کا سیاسی شعور باقی ریاستوں سے مختلف نہیں ہے۔ نتیش کمار نے جس بہار کے دم پر مودی کو چیلنج کرنا چاہا، مودی نے اس بہار سے ہی نتیش کو باہر کر دیا۔ یہ حقیقت ہے اور ہندوستانی سیاست میں حساب چکانے کا ایک بڑا واقعہ ہے۔

Nitish Kumar Samrat Chaudhry FB photo

سمراٹ نے بی جے پی میں آ کر کچھ تو کیا ہوگا کہ پارٹی نے انہیں پہلے صدر بنایا اور اب وزیر اعلیٰ۔ باقی ناراض رہنماؤں کو اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی سمراٹ سے زیادہ اہل ہیں؟ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

بہار کے نئے سمراٹ کو مبارکباد۔ اس پوسٹر میں دو سمراٹ ہیں۔ سمراٹ اشوک اور سمراٹ چودھری۔ سیاست کے اندر جو وسائل اور امکانات ہوتے ہیں، کردار وہیں سےآتا ہے۔ بہار بی جے پی کے رہنماؤں کی مخالفت کی خبروں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ امت شاہ نے بہار انتخابات کے وقت کہا تھا کہ سمراٹ کو بہت  بڑا آدمی بناؤں گا۔ انہوں نے بنا دیا۔

samrat bihar photo afzal 480x487 1

فوٹو: افضل

پہلے سے صاف تھا کہ سمراٹ ہی بنیں گے۔ باقی کسی اور رہنما نے دعویداری نہیں کی۔ امید کی ہوگی تو وہ الگ بات ہے۔جب خود سے چننا ہی نہیں ہے تو دہلی سے آ کر کوئی چن رہا ہے،اس عمل سے اعتراض نہیں ہے تو پھر اس کے انتخاب پر اعتراض کیسے کر سکتے ہیں۔ کیاایکناتھ شندے  بی جے پی کے تھے؟ کیا ہمنتا بسوا شرما بی جے پی کے تھے؟ جب ان کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی تو سمراٹ چودھری کی کیسے کی جا سکتی تھی؟ وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے وہ بی جے پی کے صدر تھے، تب کس نے ان کی مخالفت کی تھی؟

سمراٹ نے بی جے پی میں آ کر کیا کیا، کچھ تو کیا ہوگا کہ پارٹی نے انہیں صدر بنایا اور اب وزیر اعلیٰ ۔ باقی ناراض لیڈروں کو اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی سمراٹ سے زیادہ اہل ہیں؟

بہار میں پڑھائی لکھائی  کا حال کیا ہو گیا ہے، سب کو معلوم ہے۔ اس ریاست کے کالجوں میں بی اے، ایم اے کی پڑھائی میں وقت ضائع کرنا سود مند نہیں ہے۔ جس نے بھی پڑھائی چھوڑ دی اچھا کیا۔ جو وہاں سے پڑھ کر نکلا ہے، کیا پڑھا ہے، وہی جانتا ہے۔

سیاست میں پڑھائی کا کوئی مطلب نہیں رہا۔ ہندوستان جیسے ملک میں شاید ہونا بھی نہیں چاہیے، کئی ہزار کالج کباڑ ہو چکے ہیں، تو یہاں سے نکلے کس لیڈر کی ڈگری پر آپ بھروسہ کریں گے؟ جس ملک کے وزیر اعظم کی ڈگری ملک ہی نہیں دیکھ سکتا، وہاں سمراٹ کی پڑھائی پر ہنسنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

بہار کی ترقی پل پلیاسے آگے نہیں جائے گی۔ ذات پات، ٹھیکے، جہیز اور سفارش کا نظام قائم رہے گا۔ اس نے نئی صدی کی تمام امکانات سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ کوئی کوشش کرے تو اچھی بات ہے۔ نتیش کمارنے بہار کے بنیادی مزاج کو برقرار رکھا، مگر بہار بے صبر ہو گیا تھا۔ اسے کھل کر کھیلنا تھا، کھانا تھا، کھلانا تھا۔ دو سال سے یہی سن رہے ہیں۔ جس ریاست میں ترقی کا پیمانہ سڑک اور تھانہ بن جائے، اس کا مطلب ہے کہ بہار ابھی کئی دہائیوں تک انہی عزائم میں ہی لپٹا رہے گا۔

نتیش کے بیس سال میں بہار نے لاء اینڈ آرڈر کو کتنا اپنایا ہے، اس کے آثار آنے والے وقت میں نظر آئیں گے۔

نتیش کمار اپنی صحت میں نہیں ہیں۔ 2029 تک نتیش ہی رہیں گے، اس وعدے کو آسانی سے بھلا دیا گیا۔ دھوکے سے ان کے نام پر ووٹ مانگا گیا۔ اس میں تو نتیش بھی پارٹنر تھے۔ اتنے سال تک وزیر اعلیٰ رہنے والے شخص کو گھیر کر دہلی پہنچا دیا گیا۔ انہوں نے یا ان کی پارٹی نے کوئی مخالفت نہیں کی۔ جو مخالفت ہوئی وہ بھی بناوٹی ثابت ہوئی۔ نتیش کمار نے کم از کم دو سال سے میڈیا سے بات نہیں کی۔ انہیں کرنے نہیں دیا گیا۔

نتیش کو کبھی نہ کبھی ریٹائر ہونا تھا، مگر ان کی رخصتی ویسی نہیں ہوئی جس کے وہ حقدار تھے۔ انہوں نے بہار کے لیے شروع میں اچھا کام کیا،اور بعد میں محدود، اور اس کے بعد بہار جانتا ہے، کس طرح ان کا کام بکھر گیا۔ اس کے باوجود نتیش کو طویل عرصے تک یاد کیا جائے گا۔ جس ریاست کی عوام آج بھی سات ہزار کمانے کے لیے محتاج ہے، اسے انہوں نے شاندار سڑکیں دیں۔ یہ بہار کی کمی ہے کہ اس نے ان سڑکوں کا استعمال  ٹھیک سےنہیں کیا۔

نتیش جب تک بولتے تھے، کسی بھی برادری کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ ہر طبقے کو لگتا تھا کہ نتیش ان کے ہیں، اسی لیے وہ نتیش بنے رہے۔ اس کے لیے انہیں یاد رکھا جانا چاہیے۔

کاش تقدیر نے انہیں اچھی صحت دی ہوتی تو نتیش کمار کچھ اور کرتے۔ کئی لوگوں نے ایسا کہا، مگر کیا واقعی نتیش کمار نریندر مودی سے لڑ پاتے؟ ایسا تو کبھی نہیں لگا۔ انہوں نے دو بار بی جے پی کو جھٹکا دے کر اشارہ ضرور دیا، پھر جب واپس آئے تو تقریباً کان پکڑ کرمعافی مانگتے رہے کہ اب کبھی بی جے پی سے الگ نہیں ہوں گے۔

نریندر مودی اور نتیش کمار کے درمیان کشیدگی تو تھی۔ ایک دوسرے سے بڑا سمجھنے کی دوڑ بھی تھی۔ طویل عرصے میں نریندر مودی نے نتیش سے سارا حساب چکا لیا۔ مگر تب جب نتیش صحت سے کمزور ہو گئے اور جانچ ایجنسیوں سے خوف کھا گئے۔ اس مقابلے میں جیت نریندر مودی کی ہوئی، لیکن اس وقت ہوئی جب لڑنے والے کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

نتیش نے جس بہار کے دم پر مودی کو چیلنج کرنا چاہا، مودی نے اس بہار سے ہی نتیش کو باہر کر دیا۔ یہ حقیقت ہے اور ہندوستان کی سیاست میں حساب چکانے کا ایک بڑا واقعہ ہے۔ عمر بھر ایمرجنسی کے نام پر سیاست کی کمائی کھانے والے سوشلسٹ بھی اس کھیل میں خاموش ہو گئے۔ وہ آج تک ستر کی دہائی سے باہر نہیں نکل سکے اور جمہوریت کے لیے لڑنے والے آج جمہوریت کی لڑائی میں کہیں نظر نہیں آتے۔

نتیش کے دور کے سوشلسٹ دہلی میں مکان کے لیے راجیہ سبھا کی دوڑ میں لگے رہنے والے لیڈر بن کر رہ گئے ہیں۔

سمراٹ کا وزیر اعلیٰ بننا بند کمرے میں نریندر مودی اور امت شاہ کی سیاست کی جیت کا جشن ہے۔ وہ جشن کے حقدار ہیں۔ یہ دونوں کی زندگی کی بڑی حصولیابی ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ بہار کا سیاسی شعور باقی ریاستوں سے مختلف نہیں ہے۔ اگر کسی نے اس فریب کو توڑا ہے تو اس کے سمراٹ نریندر مودی اور امت شاہ ہیں۔

یہ ہر بہاری کے لیے فخر کا دن ہے۔ اتنی آسانی سے کوئی اچھا دوست بھی اپنے دوست کو غلط فہمی سے باہر نہیں نکال پاتا۔ مودی-شاہ نے بہار کے اس مفروضے کو توڑ دیا۔ یہ اور بات ہے کہ دونوں کو بہار کو اس غلط فہمی سے نکالنے میں محنت کرنی پڑی۔ صبر کرنا پڑا۔ موقع کا انتظار کرنا پڑا۔ بہت بعد میں سمجھ آگیا کہ جو کام دس ہزار کے نوٹ سے ہو سکتا ہے، اس کے لیے کئی سالوں سے اتنی محنت کیوں کر رہے تھے۔ پیسہ تو ان کے پاس تھا ہی، بس اس کا استعمال کب کرنا ہے، یا تو وہ پہلے سے جانتے تھے یا واقعی دو سال پہلے پتہ چلا ہوگا! سمراٹ چودھری کو مبارکباد ۔

یہ مضمون رویش کمار کے فیس بک پیج پر شائع ہوا ہے





Source link

متعلقہ پوسٹ