پیونگ یانگ: شمالی کوریا نے اپنے آئین میں اہم ترامیم منظور کر لی ہیں جن کے تحت اگر رہنما کم جونگ اُن کو قتل کر دیا جائے یا ملک کے جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو خطرہ لاحق ہو تو خودکار اور فوری جوہری حملہ کیا جائے گا۔
سپریم پیپلز اسمبلی (ایس پی اے) کے دو روزہ اجلاس میں یہ ترمیم منظور کی گئی۔ ریاستی خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو "تاریخی” قرار دیا اور کہا کہ یہ قومی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک طاقتور سیاسی ہتھیار ہے۔
ترمیم کے مطابق جوہری پالیسی قانون کے آرٹیکل 3 میں واضح کیا گیا ہے کہ "اگر دشمن افواج کے حملوں سے جوہری قوتوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو خطرہ لاحق ہو جائے تو جوہری حملہ خود بخود اور فوری طور پر کیا جائے گا”۔ یہ شق براہ راست رہنما کے قتل کے ممکنہ منظرناموں کا بھی احاطہ کرتی ہے۔
کم جونگ اُن نے امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان سہ فریقی فوجی تعاون کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور ملک کے ہتھیاروں کی ترقیاتی پروگرام کو درست ٹھہرایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکام ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ترمیم سے شمالی کوریا نے جوہری تخفیف کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا ہے جو امریکہ اور مغربی ممالک کا اہم مطالبہ رہا ہے۔
ترامیم میں جنوبی کوریا کے ساتھ پرامن دوبارہ اتحاد کے حوالے بھی حذف کر دیے گئے ہیں، جس سے "دو دشمنی والی ریاستیں” کی پالیسی کو مزید تقویت ملی ہے۔

