اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے نفاذ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔


اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی فعال اور شفاف کارکردگی ملکی صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کمیشن سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی سہولت کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور عالمی معیار کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اپنے نظام میں جدت لائے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت مختلف شعبوں کے لیے ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی تاکہ برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ لاجسٹک سیکٹر کی بہتری کے لیے ریفریجریٹڈ کنٹینرز اور سیمی ٹریلرز پر عائد ڈیوٹیز ختم کی جائیں گی۔ تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے خصوصی گاڑیوں اور مشینری پر کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ فارماسیوٹیکل سیکٹر کی سہولت کے لیے خام مال، خصوصاً کینسر کی ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کی جائے گی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

