استعمال شدہ سرنجیں اور ناقص طبی طریقے: پاکستان میں ایڈز کے کیسز میں تیزی، پنجاب سب سے زیادہ متاثر

IMG 20260415 WA2288


اسلام آباد: پاکستان میں ایڈز کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں استعمال شدہ سرنجوں اور غیر معیاری طبی طریقوں کو بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب تک ایڈز کے مجموعی طور پر 1 لاکھ 8 ہزار 400 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ پنجاب اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں ایڈز کے 4 ہزار 756 کیسز رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں غیر محفوظ طبی طریقے، خاص طور پر استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر رجسٹرڈ کلینکس، اور خون کی منتقلی کے غیر معیاری نظام شامل ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے عوام میں آگاہی بڑھانے، محفوظ طبی طریقہ کار اپنانے، اور ہیلتھ ریگولیشن کو سخت کرنے پر زور دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قومی سطح پر اقدامات جاری ہیں، تاہم اس کے لیے عوامی تعاون اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔

متعلقہ پوسٹ