کراچی میں گرفتار ہونے والی بدنامِ زمانہ منشیات فروش خاتون انمول عرف "پنکی” کی تفتیشی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور منشیات نیٹ ورک کے درمیان گہرے تعلقات کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مختلف سرکاری اہلکاروں نے ایک کروڑ روپے سے زائد رشوت وصول کی اور بدلے میں ملزمان کو بار بار گرفتاری کے بعد رہا کیا۔ کراچی کے ڈی ایچ اے کے تھانوں سمیت درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن تھانوں کے نام بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔ پنکی نے خود اپنے سابق شوہر کے خفیہ اداروں سے تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔
لاہور میں بھی تفتیش کی قلعی کھل گئی
لاہور میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی انکوائری میں انکشاف ہوا کہ تفتیشی افسر نے پنکی کو جان بوجھ کر گرفتار نہیں کیا، چالان میں اسے اشتہاری نہیں کیا گیا اور منشیات کا فرانزک ٹیسٹ تک نہیں کروایا گیا۔ انہی خامیوں کی وجہ سے مرکزی ملزم ریاض بلوچ بری ہو گیا۔ مزید یہ کہ پنکی نے تیزاب سے اپنے فنگر پرنٹس مٹا رکھے ہیں۔
2024 میں حراست کے دوران ایک سابق پولیس افسر سے تعلقات بنانے اور بھاری رشوت دے کر رہا ہونے کے الزامات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ رہائی کے بعد پنکی نے اپنا الگ منشیات نیٹ ورک قائم کر لیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خفیہ ادارے سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ سی سی ڈی نے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور لاہور کیس کی از سرِ نو تفتیش کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔

