جنیوا/نیویارک — اقوام متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے اسرائیل پر فلسطینی قیدیوں اور عام آبادی کے خلاف منظم تشدد اور جنسی تشدد کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
البانیز نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ۶۱ویں اجلاس کے لیے ”تشدد اور نسل کشی” کے عنوان سے اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیا کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے اسرائیل نے تشدد کو اس پیمانے پر استعمال کیا ہے جو اجتماعی انتقام اور تباہی کے ارادے کی نشاندہی کرتا ہے اور ایک مربوط ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتامار بین گویر کا بھی حوالہ دیا گیا، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے قیدیوں کو اندھیری کوٹھڑیوں میں رکھنے اور انہیں مسلسل اسرائیلی قومی ترانہ سنانے کا حکم دیا۔
البانیز نے مزید کہا کہ تشدد صرف جیلوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر بے دخلی، محاصرے اور انسانی امداد پر پابندیوں کے ذریعے بھی فلسطینیوں کو ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی استدلال کیا گیا کہ منظم تشدد نسل کشی کنونشن کے تحت نسل کشی کے ارادے کا ثبوت ہو سکتا ہے۔
یہ بیان نیویارک ٹائمز کی ۱۱ مئی کو شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں اسرائیلی فوجیوں اور جیل گارڈوں پر قیدیوں کے ساتھ عصمت دری، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کے الزامات لگائے گئے تھے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نیویارک ٹائمز کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔

