لندن — گزشتہ ایک دہائی میں مغربی دنیا میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا ایک خوفناک سلسلہ جاری رہا جس نے بین الاقوامی سطح پر اسلامو فوبیا اور دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف سنگین سوالات اٹھا دیے۔
تازہ ترین واقعہ: سان ڈیاگو ۲۰۲۶ء
امریکی شہر سان ڈیاگو میں ایک اسلامی مرکز پر فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک سیکوریٹی گارڈ بھی شامل تھا۔ دونوں مشتبہ حملہ آوروں نے بعد میں خود کو گولی مار لی۔ حکام نفرت انگیز محرکات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
بڑے حملوں کا جائزہ
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مارچ ۲۰۱۹ء کا حملہ جدید تاریخ کا بدترین مسلم مخالف واقعہ ہے جس میں دو مساجد پر جمعہ کی نماز کے دوران حملے سے ۵۱ افراد شہید ہوئے اور حملے کو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کیا گیا۔ کنیڈا کے شہر لندن (اونٹاریو) میں ۲۰۲۱ء میں ایک مسلمان خاندان ٹرک حملے کا نشانہ بنا، چار افراد جاں بحق ہوئے۔ کیوبیک سٹی میں ۲۰۱۷ء میں مسجد پر حملے سے چھ نمازی شہید ہوئے۔ برطانیہ میں فنسبری پارک مسجد کے باہر ۲۰۱۷ء میں رمضان المبارک میں وین حملے سے ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ ناروے میں ۲۰۱۹ء میں اوسلو کے قریب مسجد پر حملہ کیا گیا تاہم ایک بہادر نمازی نے حملہ آور کو قابو کر لیا۔ امریکہ میں ۲۰۱۵ء میں چیپل ہل میں تین مسلم طلبہ کو ان کے اپارٹمنٹ میں قتل کر دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد، سیاسی پولرائزیشن اور آن لائن شدت پسندی نے ان حملہ آوروں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا۔ مسلم کمیونٹیز کا کہنا ہے کہ قوانین سخت ہونے کے باوجود وہ اب بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

