تہران/واشنگٹن — امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ بدھ کی صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی جزیرے قشم پر فوجی تنصیب کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ حملے ایران کی جانب سے پہلے کیے گئے میزائل و ڈرون حملوں کا جواب تھے۔ سینٹ کام کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب بیلسٹک میزائل داغے جو ناکام رہے — کویت پر داغے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین پر آنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی افواج نے مار گرائے۔ تین ڈرون حملے بھی ناکام بنا دیے گئے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکا نے جزیرہ قشم پر کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے، جن میں ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس شامل ہیں۔ پاسداران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری جہاز کو بھی میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم امریکا نے بحرین میں اپنی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی تردید کی ہے۔
اس دوران امریکی بحریہ نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو ناکارہ کر دیا جو ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا۔
خطے میں صورتحال انتہائی سنگین ہے اور مزید کشیدگی کا خدشہ برقرار ہے۔

