اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق اہلیہ پر بے بنیاد بدکرداری کے الزامات عائد کرنے اور خلع کے بعد مسلسل مقدمہ بازی کے ذریعے ہراساں کرنے والے شوہر پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسی کارروائیاں خواتین کی عزتِ نفس اور خودمختاری پر سنگین حملہ ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خلع حاصل کرنے کے بعد کسی خاتون کو انتقامی کارروائی کے طور پر مقدمات میں الجھانا نہ صرف قانونی عمل کا غلط استعمال ہے بلکہ اس سے اس کی ذاتی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ سابق شوہر کی جانب سے بدکرداری کے الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ مقدمہ بازی کا مقصد خاتون کو ذہنی دباؤ میں رکھنا اور اسے ہراساں کرنا دکھائی دیتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ خواتین کو خلع کے قانونی حق کے استعمال پر انتقامی اقدامات کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے مناسب قانونی کارروائی ضروری ہے۔
فیصلے میں عدالت نے متعلقہ فریق پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام کو ذاتی انتقام یا کردار کشی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

