بیروت/تل ابیب/واشنگٹن — مہینوں کی شدید لڑائی اور ہزاروں جانی و مالی نقصانات کے بعد اسرائیل اور لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی عہدیداروں نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاہدہ امریکی اور قطری مذاکرات کاروں کی انتھک کوششوں اور ایران کی معاونت سے ممکن ہوا۔
امریکی حکومت کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق متعدد ادوار پر محیط سفارتی مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں نے فائر بندی پر رضامندی ظاہر کی۔ قطر نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطے کا پل بنایا، جبکہ ایران نے حزب اللہ کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
لبنان کے عوام نے اس خبر کو راحت کی سانس کے ساتھ خوش آمدید کہا، کیونکہ جنگ کے باعث لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے تھے اور ملکی انفراسٹرکچر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا تھا۔ عالمی برادری نے اس جنگ بندی کو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

