مرحوم خامنہ ای کے جنازے میں ۱۴؍ ماہ کی پوتی کا تابوت مرکز توجہ، سوشل میڈیا غمگین


ایران کے مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تہران میں جاری آخری رسومات کے دوران ان کے تابوت کے ساتھ رکھا گیا ۱۴؍ ماہ کی پوتی زہرہ محمدی گلپایگانی کا چھوٹا تابوت دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا۔ زہرہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ جاں بحق ہوئی تھیں۔ اس منظر کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں، جہاں صارفین نے ایک کم سن بچی کی ہلاکت پر افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا، جبکہ ایران میں لاکھوں افراد سوگ اور انتقام کے نعروں کے ساتھ آخری رسومات میں شریک ہو رہے ہیں۔
خامنہ ای کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت کے ساتھ رکھا گیا زہرہ کا ننھا تابوت جنازے کی تقریب کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا منظر بن گیا۔ واضح رہے کہ علی خامنہ ای ۲۸؍ فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوگئے تھے، جس میں ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی شہید ہوئے۔
تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں منعقد ہونے والی آخری رسومات میں خامنہ ای کے بڑے تابوت پر ان کی سیاہ عمامہ بھی رکھی گئی تھی، جبکہ خاندان کے دیگر افراد کے تابوت بھی ساتھ موجود تھے۔ حکام کے مطابق آخری رسومات چھ روز تک جاری رہیں گی اور اس دوران میت کو تہران، قم، عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا، اور آخر میں مشہد منتقل کیا جائے گا، جہاں تدفین عمل میں آئے گی۔
تقریب میں شریک سوگواروں نے سرخ بینرز اٹھا رکھے تھے جو ایران میں انتقام کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اور ’’مرگ بر امریکہ‘‘ و ’’انتقام‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔ ایک ۲۷؍ سالہ سوگوار نے اسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا: ’’میں یہاں اپنے محبوب رہنما علی خامنہ ای کو الوداع کہنے آیا ہوں۔ میں نے کبھی ایسا دن دیکھنے کی توقع نہیں کی تھی۔ کاش میں اس سانحے سے پہلے مر جاتا۔‘‘

متعلقہ پوسٹ