برازیل کا امریکی حکام کو ویزے دینے سے انکار، انتخابی نظام پر بات چیت کا معاملہ


برازیل نے دو امریکی حکام کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جو صدارتی انتخابات سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ قبل برازیلی انتخابی حکام سے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ اس بات کی تصدیق ایک سفارتی ذریعے نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں کی۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے برازیلی ذریعے کے مطابق، اس فیصلے کے پیچھے خدشہ یہ تھا کہ اس ملاقات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب برازیل کے دائیں بازو کے صدارتی امیدوار فلاویو بولسونارو نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ ملک کا الیکٹرانک ووٹنگ نظام محفوظ نہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے ۲۰ جولائی کو ویزے کی درخواست جمع کرائی تھی، اور وہ مقامی انتخابی حکام سے انتخابات سے متعلق اظہارِ رائے کی آزادی کے امور پر بات چیت کرنا چاہتے تھے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ درخواست اسی روز دی گئی جس دن فلاویو بولسونارو نے غیر ملکی سفارت کاروں سے ایک نجی ملاقات کی، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر الیکٹرانک ووٹنگ نظام کی قابلِ اعتماد ہونے پر سوالات اٹھائے۔
واضح رہے کہ فلاویو کے والد اور سابق صدر جائیر بولسونارو کو ۲۰۲۳ء میں انتخابی حکام نے عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا، کیونکہ انہوں نے صدر رہتے ہوئے انتخابی نظام کے بارے میں اسی نوعیت کے دعوے کیے تھے۔ بعد ازاں انہیں ۲۰۲۲ء کے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد اقتدار پر قبضے کی سازش کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا، اور وہ فی الوقت ۲۷ سالہ سزا کے تحت گھر میں نظر بند ہیں۔

متعلقہ پوسٹ