امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو بیان دیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کیلئے اپنا اب تک کا سنجیدہ ترین رویہ اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا کہ ”ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں وہ مزید سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں؛ اور اس کی وجہ شاید بالکل واضح ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ سفارت کاری اب بھی ممکن ہے لیکن اگر فوجی کارروائی ضروری ہوئی تو امریکہ ”پوری طرح تیار (locked and loaded)“ ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ ایران کے خلاف ’بڑے حملے‘ پر غور کر رہے تھے لیکن ابھی تک انہوں نے اس تعلق سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب، امریکی روزنامے ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ (ڈبلیو ایس جے) کی ایک رپورٹ کے مطابق، بحرین اور کویت نے جولائی کے اوائل میں خفیہ طور پر اپنے جنگی طیارے بھیج کر ایران کے اندرونی اہداف پر حملے کئے تھے۔ تہران کے خلاف یہ ان کی پہلی براہِ راست فوجی انتقامی کارروائی ہے۔ رپورٹ میں اس معاملے سے واقف لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں دیگر فوجی تنصیبات کے ساتھ ڈرون اور میزائلوں کو ذخیرہ کرنے والی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، جس نے اس سے قبل ایران پر متعدد حملے کئے تھے، نے مبینہ طور پر اہداف سے متعلق انٹیلی جنس اور فضائی دفاعی نظام بحرین اور کویت کو فراہم کیا، جو تہران کے خلاف عرب ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ بحرین اور کویت دونوں ہی نے ابھی تک اس کارروائی کی علانیہ تصدیق نہیں کی ہے۔ ڈبلیو ایس جے کے مطابق، سعودی عرب، جس نے ایران پر پہلے کئے گئے حملوں میں یو اے ای کا ساتھ دیا تھا، اب اپنے موقف کا ازسرِنو جائزہ لے رہا ہے، جبکہ عمان اور قطر نے تہران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کیا ہے۔
رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ کویت اور بحرین نے حالیہ ہفتوں میں ایران کی انتقامی کارروائیوں کا بڑا حصہ برداشت کیا ہے، دونوں ممالک اہم امریکی فوجی اثاثوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے ۵ ویں بیڑے کا اڈہ بھی ہے۔ کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران نے بجلی کی پیداوار اور پانی کو نمک سے پاک کرنے کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے ایک خطرناک کشیدگی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اسی دوران، ایران میں ہندوستانی سفارت خانے نے بتایا کہ جمعہ کے دن آبنائے ہرمز میں ایل پی جی لے جانے والے ایک ٹینکر پر حملہ ہوا، جس کے عملے میں ۲۸ ہندوستانی افراد شامل ہیں، تاہم عملے کے تمام اراکین محفوظ ہیں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے ایک اور ایل پی جی ٹینکر پر امریکی میزائل حملے میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہوگئے، جب اس جہاز کو مبینہ طور پر غلطی سے ایرانی گیس لے جانے والا جہاز سمجھ لیا گیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو دو ٹوک لہجے میں کہا کہ ایران عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا اور اپنا موجودہ طریقۂ کار اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے بارے میں اس کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔ ایک ایرانی فوجی کمانڈر نے کہا کہ ہر ایرانی شہری کی ہلاکت کا جواب ایک امریکی فوجی کی ہلاکت سے دیا جائے گا۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی حکام نے اسے باضابطہ طور پر معلنہ میدانی پالیسی قرار دیا۔
عراق میں امریکی سفارتخانے نے جمعہ کے روز ایک انتباہ جاری کرکے امریکی شہریوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی۔ امریکی مشن نے مزید کہا کہ علاقائی تناؤ بڑھنے کے مدِنظر ایران اور اس کے اتحادی گروپس دنیا بھر میں امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعہ کے روز چین اور روس کو بھی انتباہ دیا کہ اگر ان میں سے کسی نے بھی ایران کو ہتھیار فراہم کئے تو یہ ان کیلئے ”بہت برا“ ہوگا، تاہم ان کا ماننا ہے کہ دونوں حکومتوں نے ایسا نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ دی نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کو وسعت دینے کے امکان پر بحث کیلئے سینئر مشیروں اور کابینہ کے اراکین سے الگ الگ ملاقات بھی کی۔

