دہلی ہائی کورٹ سے سلمان خان کو بڑی راحت، فلم ’’کالا ہرن‘‘ کے ٹیزر کو ہٹانے کا حکم

salman d


ممبئی، ۲۸ جولائی: دہلی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو بڑی عبوری راحت دیتے ہوئے فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے پروڈیوسرز کو حکم دیا ہے کہ وہ فلم کا ٹیزر اور اس سے متعلق تمام تشہیری مواد ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر فلم ساز حکم پر عمل نہ کریں تو ایکس (X) اور یوٹیوب سمیت متعلقہ پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کی ہدایت دی جائے گی۔
سلمان خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم ۱۹۹۸ء کے کالا ہرن شکار کیس سے متاثر دکھائی دیتی ہے اور اگرچہ ان کا نام نہیں لیا گیا، تاہم ٹیزر میں ان سے مشابہ کردار اور ان کی شناخت سے جڑی علامات استعمال کر کے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس جیوتی سنگھ نے ریمارکس دیے کہ کسی شخص کی شہرت برسوں کی محنت سے بنتی ہے اور اسے نقصان پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایسا مواد چند گھنٹوں کے لیے بھی عوامی سطح پر موجود رہے تو اس سے متعلقہ شخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
فلم کے پروڈیوسرز کا مؤقف ہے کہ یہ سلمان خان کی بایوپک نہیں بلکہ عوامی ریکارڈ پر موجود واقعات سے متاثر ایک الگ کہانی ہے۔ تاہم بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق جسٹس سنگھ نے سماعت کے دوران فلم سازوں سے سخت سوالات کیے اور تشہیری مواد کی نوعیت پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’یہ کس قسم کا مواد ہے؟ لگتا ہے کہ آپ کو اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ پچھلی بار عدالت نے کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔ آپ کے مؤکل کو لگتا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہے۔ جب تک یہ مواد عوامی سطح پر موجود ہے، ہر لمحہ مدعی کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ میں نے پہلے آپ کے ساتھ نرمی برتی تھی، لیکن آپ سدھرنے والے نہیں ہیں۔‘‘
فلم ’’کالا ہرن‘‘ کس بارے میں ہے؟
رپورٹس کے مطابق فلم کی کہانی ۱۹۹۸ء کے بلیک بک (کالا ہرن) شکار کیس، بشنوئی برادری کی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے طویل جدوجہد، اور سلمان خان و گینگسٹر لارنس بشنوئی سے جڑے تنازع سے متاثر بتائی جاتی ہے۔ فلم اس وقت تنازع کا شکار بن گئی جب اس کا فرسٹ لک ٹیزر ۱۲؍ جون کو جاری کیا گیا، جس پر یہ عبارت درج تھی: ’’گرو جمبھیشور بھگوان اور بشنوئی برادری کے نام‘‘۔
ٹیزر میں اداکار کاشف اقبال خان نے ایک ایسا کردار ادا کیا جو مبینہ طور پر سلمان خان سے مشابہت رکھتا ہے، جبکہ سینئر اداکار گووند نام دیو بشنوئی برادری کی جانب سے انصاف کی جدوجہد کرنے والے وکیل کے کردار میں نظر آئے۔ گزشتہ ماہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب گووند نام دیو نے عوامی طور پر فلم سے خود کو الگ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں فلم کے اصل موضوع سے لاعلم رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’جیسے ہی میں نے ٹریلر دیکھا، میں حیران رہ گیا۔ فوراً سمجھ گیا کہ یہ وہ فلم نہیں ہے جس کی شوٹنگ میں نے کی تھی۔ ہمیں کبھی نہیں بتایا گیا تھا کہ سلمان خان سے مشابہ کردار اس انداز میں پیش کیا جائے گا۔ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اندھیرے میں رکھا گیا اور استعمال کیا گیا۔‘‘

متعلقہ پوسٹ