امید ہے آئندہ چند گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوجائے گا: قطر

قطر، عمان اور پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں معاونت کر رہے ہیں: قطری وزارتِ خارجہ
دوحہ (رپورٹ) — امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک آئندہ چند گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو بریفنگ میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
ترجمان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ثالث ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ قطر، عمان اور پاکستان سمیت ثالثی کرنے والے ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں، مجوزہ معاہدوں کے مسودوں کے تبادلے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں معاونت کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے قطری ترجمان نے کہا کہ قطر کا مؤقف ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھلنا چاہیے اور یہاں جہاز رانی اسی طرح جاری رہنی چاہیے جیسے ماضی میں تھی۔ ان کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے، تاہم امریکا نے اس تجویز کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
الانصاری نے کہا کہ قطر کے نزدیک آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کا فیصلہ علاقائی ممالک کو مل کر کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل بلاتعطل برقرار رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحہ ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور امید ہے کہ فریقین آئندہ چند روز یا گھنٹوں میں معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک یا دو روز میں معاہدہ متوقع ہے۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں معاہدے کا باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ