لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) — برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کو عہدہ سنبھالنے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اپنی کابینی تقرریوں اور پالیسیوں پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ حالیہ تنقید کا مرکز جیمز پرنیل کی بطور چیف آف اسٹاف تقرری ہے، جو ۲۰۰۲ء سے ۲۰۰۴ء تک لیبر فرینڈز آف اسرائیل (LFI) گروپ کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ پرنیل کی لابنگ فرم "فلنٹ گلوبل” سے وابستگی نے بھی تنازع کو ہوا دی ہے۔
ٹاور ہیملٹ کونسل میں گرینز کے نائب لیڈر کونسلر جوناتھن پرسیل نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ برنہم کی ترجیحات "بالکل واضح” ہیں اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکی جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ۱۸ ماہ قبل کونسل نے نسل کشی میں ملوث ہتھیار ساز کمپنیوں سے سرمایہ کاری واپس لینے کی قرارداد منظور کی تھی۔
ٹریڈ یونین یونسن کی برانچ سیکرٹری کیری این نے حکومت سے اسرائیل پر بائیکاٹ، سرمایہ کاری سے دستبرداری اور پابندیوں (BDS) کے سخت نفاذ کا مطالبہ کیا، جبکہ پنشنر جان میکلافلن نے پنشن فنڈز کی اسرائیل سے وابستہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری پر تشویش ظاہر کی۔
واضح رہے کہ عہدہ سنبھالنے سے قبل برنہم غزہ کے معاملے پر لیبر پارٹی کے ابتدائی موقف پر معافی مانگ چکے ہیں۔ گارجین کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے اسرائیلی حکومت پر مزید دباؤ، افراد و اداروں پر پابندیوں اور غیر قانونی بستیوں سے تجارت پر ممکنہ پابندی کا عندیہ دیا، اور مغربی کنارے کی بستیوں کے خلاف اقدامات پر غور جاری رکھنے کی تصدیق کی۔

