میڈرڈ (انٹرنیشنل ڈیسک) — اسپین کی وزیرِ کھیل ملاگروس تولون نے کہا ہے کہ ۲۰۳۰ء فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کی میزبانی کا سب سے زیادہ حق اسپین کو حاصل ہے اور انہیں یقین ہے کہ فیفا اسی کا انتخاب کرے گا۔ واضح رہے کہ فیفا نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ فائنل کس ملک میں کھیلا جائے گا۔ اسپین، پرتگال اور مراکش اس ایونٹ کے مشترکہ میزبان ہوں گے۔
بدھ کے روز فیفا نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیفا صدر جیانی انفانٹینو نے اپنی صدارت کے لیے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے مراکش کو فائنل کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ ریڈیو کادینا سیر سے گفتگو میں تولون نے کہا: "سب سے اہم بات یہ ہے کہ فیفا نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے۔ ہماری فیفا کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ستمبر میں آئندہ اجلاس ہوگا۔ ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ورلڈ کپ کا فائنل اسپین میں ہونا چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ اسپین اس وقت مردوں اور خواتین، دونوں کی عالمی چیمپئن ٹیموں کا حامل واحد ملک ہے۔ خواتین کی ٹیم نے ۲۰۲۳ء میں سڈنی میں انگلینڈ کو شکست دے کر پہلی بار ورلڈ کپ جیتا تھا، جبکہ مردوں کی ٹیم نے یورپی چیمپئن شپ جیتنے کے دو سال بعد گزشتہ ماہ نیو جرسی میں ارجنٹائنا کو شکست دے کر اپنا دوسرا عالمی خطاب حاصل کیا۔
تولون کے مطابق اسپین اور پرتگال نے مشترکہ طور پر ۲۰۳۰ء ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بولی پیش کی تھی، بعد میں مراکش بھی اس میں شامل ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین کے پاس بڑے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کا وسیع تجربہ، جدید مواصلاتی نظام اور اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی ڈھانچہ موجود ہے، اسی لیے فیفا فائنل کے لیے اسپین کا انتخاب کرے گا۔
مراکش کاسابلانکا کے قریب زیرِ تعمیر کنگ حسن دوم اسٹیڈیم میں فائنل کرانے کا خواہاں ہے، جبکہ اسپین کی جانب سے ریئل میڈرڈ اور بارسلونا کے اسٹیڈیم ممکنہ میزبانوں میں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ۲۰۳۰ء ورلڈ کپ کا آغاز مونٹیویڈیو، بیونس آئرس اور اسونسیون سے ہوگا، جس کے بعد مقابلے اسپین، پرتگال اور مراکش میں کھیلے جائیں گے۔

