قدیم تہذیبوں کے حکمران عام نہیں بلکہ آسمان سے گرنے والے پتھروں کی انگوٹھیاں پہنتے تھے

بحیرہ روم کے حکمران.webp


قدیم تہذیبوں کے حکمران عام نہیں بلکہ آسمان سے گرنے والے پتھروں کی انگوٹھیاں پہنتے تھے

ماہرین کے مطابق یہ انگوٹھیاں طاقت، مرتبے اور اقتدار کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بحیرہ روم کی قدیم تہذیبوں کے بااثر اور شاہی طبقے کے افراد آسمان سے زمین پر گرنے والے پتھروں سے حاصل ہونے والے لوہے کی بنی انگوٹھیاں پہنتے تھے۔

تحقیق کے مطابق ہزاروں سال قبل جب انسان عام طور پر لوہا تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا تو اس زمانے میں آسمان سے گرنے والے پتھر قیمتی دھات کا اہم ذریعہ تھے۔ اسی وجہ سے ان سے بننے والی اشیا کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔

ماہرین نے موجودہ یونان سے ملنے والی کانسی کے دور کی 100 سے زائد قدیم اشیا کا جائزہ لیا جن میں 91 لوہے کی بنی اشیا شامل تھیں۔ ان میں زیادہ تر انگوٹھیاں، کنگن اور چاقو شامل تھے جن کی عمر تقریباً تین سے چار ہزار سال بتائی جاتی ہے۔

تحقیق کے دوران جدید جانچ کے ذریعے معلوم ہوا کہ 13 انگوٹھیاں ایسے لوہے سے تیار کی گئی تھیں جو آسمان سے گرنے والے پتھروں سے حاصل ہوا تھا۔ ان انگوٹھیوں میں سونا یا چاندی بھی استعمال کی گئی تھی جب کہ بعض پر شاہی مہروں کے لیے مخصوص ابھرا ہوا حصہ بھی موجود تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ تمام انگوٹھیاں عام لوگوں کے بجائے شاہی اور بااثر شخصیات سے منسلک مقبروں سے ملی ہیں۔

ایک انگوٹھی تو ایک قدیم مذہبی پیشوا کی انگلی میں موجود حالت میں دریافت ہوئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں یہ زیور اقتدار اور اعلیٰ سماجی حیثیت کی علامت تھا۔

تحقیق میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ قیمتی لوہا مقامی طور پر دستیاب نہیں تھا بلکہ مصر سے لایا جاتا تھا کیونکہ وہاں کے صحرائی علاقے آسمانی پتھروں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ بعد کے زمانے میں انسان نے بھٹیوں میں لوہا تیار کرنا شروع کردیا جس کے بعد آسمانی پتھروں سے بنی انگوٹھیوں کا استعمال بتدریج کم ہوتا گیا۔ ممکن ہے اس کی وجہ خام مال کی کمی، تجارت میں تبدیلی یا پھر وقت کے ساتھ فیشن کا بدل جانا ہو۔



Source link

متعلقہ پوسٹ