ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے حوالے سے مشترکہ اعلامیے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق یہ مفاہمت آخری مرحلے کے قریب ہے، تاہم اس کا مطلب آبنائے ہرمز کا مکمل کھلنا نہیں بلکہ گزشتہ 60 برسوں سے جاری انتظام میں ایک نیا ماڈل متعارف کرانا ہے، جس کے تحت بحری جہازوں کے راستے کا کافی حصہ ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا۔
اہم نکات:
امریکی میڈیا کے مطابق ایران، عمان اور امریکہ کے درمیان 60 روزہ عارضی انتظام پر اتفاق ہوا ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع ممکن ہوگی۔
خلیجی ممالک جانے والے جہاز ایرانی پانیوں سے، جبکہ بحیرۂ عرب جانے والے جہاز عمانی پانیوں سے گزریں گے۔
60 دن کی مدت میں کوئی ٹرانزٹ فیس نہیں لی جائے گی، اور 30 دن کے اندر فریقین آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے پر کام کریں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا اصرار ہے کہ مذاکرات صرف مسقط اور تہران کے درمیان ہو رہے ہیں اور واشنگٹن کا ان سے براہِ راست تعلق نہیں — اگر امریکہ کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولی جائے گی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ثالثی میں قطر، پاکستان اور سعودی عرب بھی شامل رہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکاف کی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی سے متعدد ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔
عراقچی نے اصولی طور پر اتفاق کر لیا تھا مگر انہیں سپریم لیڈر اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی منظوری درکار تھی، جو منگل کے روز حاصل کر لی گئی۔
امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے، جس کا بنیادی مقصد امریکہ-ایران جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور رکے ہوئے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ہے۔

