یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کے دوران چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ کے مشہور چڑیا گھر نے اپنے جانوروں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ زو انتظامیہ نے قطبی ریچھوں، ہاتھیوں، اوٹرز، طوطوں، گوریلوں اور دیگر جانوروں کے لیے برف کے بڑے ڈھیر، منجمد پھلوں سے تیار کردہ آئس کریم نما ٹریٹس اور ٹھنڈی خوراک فراہم کی۔
سب سے زیادہ توجہ چڑیا گھر کے دو قطبی ریچھوں Aleut اور Gregor نے حاصل کی، جو اپنے باڑے میں لائے گئے برف کے ڈھیروں پر لوٹتے، کھیلتے اور ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔ زو کے ترجمان فلپ ماسیک کے مطابق ’’قطبی ریچھ برف سے نہ صرف خود کو ٹھنڈا رکھتے ہیں بلکہ یہ ان کے لیے تفریح اور ذہنی سرگرمی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔‘‘
اہم نکات:
جولائی اور اگست کے لیے پہلے سے کئی ٹن برف کا انتظام کیا گیا تھا، مگر ہیٹ ویو معمول سے پہلے آنے کے باعث برف کی فراہمی بھی جلد شروع کرنا پڑی۔
چیک جمہوریہ نے رواں سال جون کے آخر میں 41.9 ڈگری سیلسیس کے ساتھ اپنی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا، جس کے بعد انتظامیہ نے گرمی سے نمٹنے کے منصوبوں پر نظرثانی کی۔
گوریلوں کو منجمد پھلوں سے تیار آئس بلاکس اور آئس کریم نما خوراک دی گئی، جبکہ ہاتھیوں، اوٹرز اور طوطوں کے لیے بھی ٹھنڈک کے خصوصی بندوبست کیے گئے۔
بعض جانوروں نے سایہ دار مقامات اور پانی کے تالابوں کا سہارا لیا، جبکہ گرمی برداشت کرنے والی نسلوں کے لیے قدرتی ماحول برقرار رکھا گیا۔
یہ منصوبہ تقریباً دو سال قبل موسمیاتی تبدیلی اور یورپ میں بڑھتے درجہ حرارت کے پیشِ نظر شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت اب ہر موسمِ گرما میں برف، ٹھنڈے پھل اور اضافی پانی کے انتظامات معمول بن چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں مسلسل بڑھتی ہیٹ ویوز نہ صرف انسانوں بلکہ جنگلی حیات اور چڑیا گھروں کے جانوروں کے لیے بھی بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں، جس کے باعث دنیا بھر کے کئی بڑے چڑیا گھر اب Frozen Treats اور Ice Enrichment جیسے طریقے اپنا رہے ہیں۔

