ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا: ترکی، سعودی، پاکستان کا تاریخی دفاعی معاہدہ

IMG 20260807 WA1994


ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ” مکہ معاہدہ” کے نام سے ہونے والے اس دفاعی سمجھوتے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع، عسکری تعاون، علاقائی استحکام اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ معاہدہ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران طے پایا۔ اعلامیے کے مطابق یہ تینوں ممالک کے ” گہرے تاریخی تعلقات، دیرینہ برادرانہ روابط، اسلامی یکجہتی، مشترکہ تزویراتی مفادات اور مضبوط دفاعی تعاون” کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے، اور کسی بھی ایک ریاست کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماعی مزاحمتی صلاحیت (Collective Deterrence) کو مضبوط بنانے اور دفاع، انٹیلی جنس اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ترک وفد میں وزیر خارجہ ہاکان فیدان، انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن اور صدارتی چیف آف اسٹاف حسن دوغان شامل تھے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال کشیدہ ہے — ایران سے متعلق تنازعات، بحیرۂ احمر میں حملوں اور سعودی عرب پر حالیہ ڈرون و میزائل حملوں نے علاقائی دفاعی شراکت داری کی ضرورت بڑھا دی۔ واضح رہے سعودی عرب اور پاکستان ۲۰۲۵ء میں پہلے ہی دوطرفہ دفاعی معاہدہ کر چکے تھے، اور اب ترکی کی شمولیت سے اسے باقاعدہ سہ فریقی فریم ورک کی شکل دے دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ