کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
ہر سال 25 صفر المظفر کو دنیا بھر میں عظیم عاشقِ رسول، مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا یومِ وصال انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس بابرکت موقع پر دنیا بھر کے مسلمان اور حضور نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کرنے والے پروانے آپ کی بے لوث دینی، علمی اور فکری خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس دن کو یومِ رضا کے طور پر مناتے ہیں۔ آپ کی ذاتِ گرامی برصغیر پاک و ہند میں علم و حکمت، شریعت و طریقت اور تحفظِ ناموسِ رسالت کا وہ درخشندہ مینار ہے جس کی روشنی نے لاکھوں دلوں کو نورِ ایمان اور سچی محبتِ رسول سے منور فرمایا۔ امام احمد رضا خان بریلوی 10 شوال 1272ھ بمطابق 14 جون 1856ء بروز جمعہ محلہ سوداگران، بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد حضرت علامہ مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالمِ دین تھے۔ آپ کا نام مبارک محمد رکھا گیا جبکہ آپ کے دادا اور گھر والوں نے پیار سے آپ کا نام احمد رضا رکھا۔ آپ نے کسی روایتی مدرسے کے بجائے اپنے گھر پر ہی حصولِ علم کا آغاز کیا جہاں آپ کے اساتذہ میں سب سے نمایاں نام آپ کے والدِ گرامی کا تھا۔ ان کے علاوہ آپ نے اپنے دور کے جید علمائے کرام جیسے کہ مایہ ناز محدث حضرت علامہ مولانا شاہ ابوالحسین احمد نوری، حضرت علامہ مولانا زین العابدین رامپوری اور دیگر ممتاز اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ ان سے آپ نے صرف، نحو، فقہ، حدیث، تفسیر اور منطق جیسے علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ساتھ ساتھ فلسفہ، ریاضی اور علمِ فلکیات میں بھی کامل مہارت حاصل کی۔ آپ نے محض 13 سال، 10 مہینے اور 5 دن کی عمر میں تمام علوم کی تکمیل کر کے اتنی کم عمری میں ہی شرعی مسائل کے جوابات یعنی فتوے تحریر کرنے کی سعادت حاصل کی اور فتویٰ نویسی اور علمی رہنمائی کی مسند پر فائز ہوئے۔ آپ کی پوری حیاتِ طیبہ اور تمام تر کارنامے تاجدارِ ختم نبوت، شفیعِ روزِ جزا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت اور اطاعت کے گرد گھومتے ہیں۔ آپ کا مشہور و معروف نعتیہ مجموعہ حدائقِ بخشش بارگاہِ رسالت مآب میں آپ کے عشقِ صادق کا بحرِ بیکراں ہے، جس کا یہ لافانی شعر آپ کے مقامِ عشق کی معراج کو آشکار کرتا ہے کہ تُو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانہ نور کا۔ آپ نے اپنی تمام زندگی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت، ناموس اور تحفظِ ختمِ نبوت کی خاطر باطل نظریات کے خلاف جہادِ مسلسل میں بسر کی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ایک زبردست محقق اور کثیر التصانیف امام تھے جنہوں نے اپنی مبارک زندگی میں تقریباً 1000 کے قریب علمی و تحقیقی کتب تصنیف فرمائیں۔ آپ کو نہ صرف قرآن، حدیث، فقہ اور تصوف جیسے علومِ دینیہ پر کامل دسترس حاصل تھی بلکہ آپ اپنے وقت کے یگانہ روزگار ماہرِ فلکیات، ماہرِ ریاضی، ماہرِ علمِ توقیت، ماہرِ علمِ جفر اور ماہرِ فلسفہ تسلیم کیے جاتے تھے۔ آپ کا سب سے بڑا اور لافانی علمی کارنامہ فتاویٰ رضویہ ہے جو فقہِ اسلامی کا ایک وسیع و عریض سمندر اور تقریباً 30 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جبکہ قرآن مجید کا آپ کا اردو ترجمہ کنزالایمان اپنی فصاحت، بلاغت، شانِ نزول کے تحفظ اور عشقِ رسول کے ادب کے لحاظ سے اردو تراجم میں ممتاز ترین مقام رکھتا ہے۔ آپ نے 1323ھ بمطابق 1905ء میں فریضۂ حج ادا کیا۔ اس بابرکت سفر کے دوران مدینہ منورہ میں روضۂ اطہر پر حاضری کے وقت بیداری میں دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کے عظیم شرف سے سرفراز ہوئے جو آپ کے اس روح پرور عقیدے اور کلام کی بین عکاسی کرتا ہے کہ تُوں زندہ ہے واللہ تُوں زندہ ہے واللہ، میری چشمِ عالم سے چھپ جانے والے۔ ربِّ کریم نے آپ کو کثیر روحانی کمالات، بصیرت اور کرامات سے نوازا تھا، جن میں حرمین شریفین کے جید علماء کی جانب سے آپ کو چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا جانا اور دین کے دشمنوں کے خلاف حسام الحرمین جیسی تاریخ ساز کتاب کی تصنیف نمایاں ہے۔ آپ کی صحبتِ بافیض میں اتنی تاثیر اور برکت تھی کہ جو بھی آپ کے قریب آتا وہ دینِ حق کی سچی راہ پر گامزن ہو جاتا۔ امام احمد رضا خان بریلوی 25 صفر المظفر 1340ھ بمطابق 28 اکتوبر 1921ء کو اس دارِ فانی سے وصال فرما گئے۔ آپ کا مزارِ پرانوار بریلی شریف میں مرجعِ خلائق ہے جہاں آج بھی عرسِ پاک کے موقع پر دنیا بھر سے لاکھوں عقیدت مند حاضری دے کر اپنی عقیدتوں کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں امام احمد رضا خان بریلوی کے نقشِ قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے اور ناموسِ رسالت کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

