عزم و وفا کی روشن داستان ملک محمد اقبال چنڑ مرحوم

IMG 20260802 WA0656

​کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​سیاست میں مفادات کے سودے تو روز ہوتے ہیں اور وفاداریاں بدلنا یہاں کا پرانا دستور ہے لیکن کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو وقت کے ہر طوفان میں چٹان کی طرح ڈٹی رہتی ہیں، جن کے لیے سیاست اقتدار کا نہیں بلکہ نظریے اور اصولوں کا نام ہوتی ہے، اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین، مخلص اور نظریاتی رہنما، سابق صوبائی وزیر اور رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کا وجود ایسی ہی ایک ہستی کا نام تھا جو رواں ہفتے یکم اگست 2026 کو دماغی شریان پھٹنے کے باعث طویل علالت کے بعد اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تو نہ صرف بہاولپور بلکہ پورے پنجاب کی سیاست کا ایک درخشندہ باب تمام ہو گیا جو 15 مارچ 1950 کو بہاولپور کے ایک معتبر گھرانے میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد کا نام ملک فیض محمد چنڑ تھا جنہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم یہیں سے حاصل کرنے کے بعد 1971 میں ولایت حسین اسلامیہ لاء کالج، ملتان سے قانون کی ڈگری (LL.B) حاصل کی اور بطور پیشہ ور وکیل اور ماہرِ زراعت اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، اور پھر اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1980 کی دہائی کی بلدیاتی سیاست سے کیا، جس کے تحت وہ 1983 سے 1991 تک مسلسل دو دفعہ ڈسٹرکٹ کونسل کے رکن رہے، 1989 سے 1993 تک مارکیٹ کمیٹی کے ایڈمنسٹریٹر اور 1993 سے 1994 تک چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ سنہ 2001-2002 میں وہ بہاولپور شہر کی یونین کونسل نمبر 27 کے ناظم منتخب ہوئے، اور اس بلدیاتی کامیابی کے بعد انہوں نے صوبائی سیاست کا رخ کیا اور مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر مسلسل تین بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جن میں جنرل الیکشن 2002 میں حلقہ پی پی-272 سے کامیابی، 2008 میں دوبارہ اسی حلقے سے منتخب ہو کر میاں شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر برائے خصوصی تعلیم اور بعد ازاں وزیر برائے جیل خانہ جات کے طور پر فرائض سرانجام دینا، اور مئی 2013 کے انتخابات میں تیسری بار کامیابی کے بعد صوبائی وزیر برائے کوآپریٹوز کی ذمہ داریاں نبھانا شامل ہے، جس کے بعد انہوں نے فروری 2024 کے عام انتخابات میں حلقہ این اے-168 (بہاولپور-V) سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر پہلی بار رکنِ قومی اسمبلی (MNA) بنے، یوں ان کی سیاسی زندگی کا سب سے روشن اور سنہری باب ان کی نظریاتی وابستگی اور شجاعت کا امین بن گیا جب بارہ اکتوبر 1999 کے اس سیاہ دن جب ملک میں منتخب جمہوری حکومت کو برطرف کر کے آمریت مسلط کی گئی تھی، مسلم لیگ (ن) کے لیے آزمائش کے اس کٹھن دور میں جب بڑے بڑے نام مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر پسِ منظر میں چلے گئے تھے اور بہاولپور میں مسلم لیگ (ن) کا نام لینے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا تھا، تو ایسے تاریک اور مشکل ترین وقت میں بھی ملک محمد اقبال چنڑ نے پرویز مشرف کے لگائے گئے آمرانہ قوانین کے خلاف علمِ بغاوت بلند رکھا اور وہ میاں محمد نواز شریف کے وہ جانثار سپاہی ثابت ہوئے جنہوں نے ہر طوفان کا سینے پر وار کیا، پارٹی قائدین کی غیر موجودگی میں بہاولپور کے کارکنوں کو متحد رکھا اور ہمیشہ شیشہ پلائی دیوار بن کر ایک ایسے زندہ دل اور نڈر انسان کا روپ دھارے رکھا جن کا ڈیرہ ہمیشہ کارکنوں اور عوام کے لیے کھلا رہتا تھا، اور جن کی اس وابستگی پر مرکزی و صوبائی قیادت کو ہمیشہ فخر رہا، اس لیے آج اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، تو صدرِ پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور تمام سیاسی قیادت کی طرف سے انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی خدمات لازوال ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ان کا سیاسی اور اخلاقی ورثہ اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، جہاں ان کے چھوٹے بھائی ملک محمد اعجاز چنڑ اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چل کر عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے پنجاب اسمبلی کے موجودہ ڈپٹی سپیکر ملک محمد ظہیر اقبال چنڑ اور ان کے بڑے بھائی، سابق ڈپٹی میئر بہاولپور ملک منیر اقبال چنڑ اسی پرانے ڈیرے کو آباد رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہیں، کیونکہ ملک محمد اقبال چنڑ صرف ایک شخص کا نام نہیں تھا بلکہ ایک تحریک، ایک عہد اور ایک وفاداری کا استعارہ تھا جنہوں نے اپنی زندگی خدمت، ایثار اور اصول پسندی کے ساتھ گزاری اور یقیناً ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنا آسان نہیں ہوگا، مگر ان کے نظریات اور ان کے چشم و چراغ عوام کے دلوں میں ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے، لہذا اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمینعزم و وفا کی روشن داستان ملک محمد اقبال چنڑ مرحوم

​کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​سیاست میں مفادات کے سودے تو روز ہوتے ہیں اور وفاداریاں بدلنا یہاں کا پرانا دستور ہے لیکن کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو وقت کے ہر طوفان میں چٹان کی طرح ڈٹی رہتی ہیں، جن کے لیے سیاست اقتدار کا نہیں بلکہ نظریے اور اصولوں کا نام ہوتی ہے، اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین، مخلص اور نظریاتی رہنما، سابق صوبائی وزیر اور رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کا وجود ایسی ہی ایک ہستی کا نام تھا جو رواں ہفتے یکم اگست 2026 کو دماغی شریان پھٹنے کے باعث طویل علالت کے بعد اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تو نہ صرف بہاولپور بلکہ پورے پنجاب کی سیاست کا ایک درخشندہ باب تمام ہو گیا جو 15 مارچ 1950 کو بہاولپور کے ایک معتبر گھرانے میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد کا نام ملک فیض محمد چنڑ تھا جنہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم یہیں سے حاصل کرنے کے بعد 1971 میں ولایت حسین اسلامیہ لاء کالج، ملتان سے قانون کی ڈگری (LL.B) حاصل کی اور بطور پیشہ ور وکیل اور ماہرِ زراعت اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، اور پھر اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1980 کی دہائی کی بلدیاتی سیاست سے کیا، جس کے تحت وہ 1983 سے 1991 تک مسلسل دو دفعہ ڈسٹرکٹ کونسل کے رکن رہے، 1989 سے 1993 تک مارکیٹ کمیٹی کے ایڈمنسٹریٹر اور 1993 سے 1994 تک چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ سنہ 2001-2002 میں وہ بہاولپور شہر کی یونین کونسل نمبر 27 کے ناظم منتخب ہوئے، اور اس بلدیاتی کامیابی کے بعد انہوں نے صوبائی سیاست کا رخ کیا اور مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر مسلسل تین بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جن میں جنرل الیکشن 2002 میں حلقہ پی پی-272 سے کامیابی، 2008 میں دوبارہ اسی حلقے سے منتخب ہو کر میاں شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر برائے خصوصی تعلیم اور بعد ازاں وزیر برائے جیل خانہ جات کے طور پر فرائض سرانجام دینا، اور مئی 2013 کے انتخابات میں تیسری بار کامیابی کے بعد صوبائی وزیر برائے کوآپریٹوز کی ذمہ داریاں نبھانا شامل ہے، جس کے بعد انہوں نے فروری 2024 کے عام انتخابات میں حلقہ این اے-168 (بہاولپور-V) سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر پہلی بار رکنِ قومی اسمبلی (MNA) بنے، یوں ان کی سیاسی زندگی کا سب سے روشن اور سنہری باب ان کی نظریاتی وابستگی اور شجاعت کا امین بن گیا جب بارہ اکتوبر 1999 کے اس سیاہ دن جب ملک میں منتخب جمہوری حکومت کو برطرف کر کے آمریت مسلط کی گئی تھی، مسلم لیگ (ن) کے لیے آزمائش کے اس کٹھن دور میں جب بڑے بڑے نام مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر پسِ منظر میں چلے گئے تھے اور بہاولپور میں مسلم لیگ (ن) کا نام لینے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا تھا، تو ایسے تاریک اور مشکل ترین وقت میں بھی ملک محمد اقبال چنڑ نے پرویز مشرف کے لگائے گئے آمرانہ قوانین کے خلاف علمِ بغاوت بلند رکھا اور وہ میاں محمد نواز شریف کے وہ جانثار سپاہی ثابت ہوئے جنہوں نے ہر طوفان کا سینے پر وار کیا، پارٹی قائدین کی غیر موجودگی میں بہاولپور کے کارکنوں کو متحد رکھا اور ہمیشہ شیشہ پلائی دیوار بن کر ایک ایسے زندہ دل اور نڈر انسان کا روپ دھارے رکھا جن کا ڈیرہ ہمیشہ کارکنوں اور عوام کے لیے کھلا رہتا تھا، اور جن کی اس وابستگی پر مرکزی و صوبائی قیادت کو ہمیشہ فخر رہا، اس لیے آج اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، تو صدرِ پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور تمام سیاسی قیادت کی طرف سے انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی خدمات لازوال ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ان کا سیاسی اور اخلاقی ورثہ اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، جہاں ان کے چھوٹے بھائی ملک محمد اعجاز چنڑ اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چل کر عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے پنجاب اسمبلی کے موجودہ ڈپٹی سپیکر ملک محمد ظہیر اقبال چنڑ اور ان کے بڑے بھائی، سابق ڈپٹی میئر بہاولپور ملک منیر اقبال چنڑ اسی پرانے ڈیرے کو آباد رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہیں، کیونکہ ملک محمد اقبال چنڑ صرف ایک شخص کا نام نہیں تھا بلکہ ایک تحریک، ایک عہد اور ایک وفاداری کا استعارہ تھا جنہوں نے اپنی زندگی خدمت، ایثار اور اصول پسندی کے ساتھ گزاری اور یقیناً ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنا آسان نہیں ہوگا، مگر ان کے نظریات اور ان کے چشم و چراغ عوام کے دلوں میں ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے، لہذا اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

متعلقہ پوسٹ