خصوصی کالم فائزہ ہونس
اسلام آباد — وہ شہر جو کبھی پاکستان کا سب سے محفوظ اور منظم مقام سمجھا جاتا تھا — آج پھر لاشوں، چیخوں، سائرنوں اور خون آلود سڑکوں کی تصاویر سے گونج اٹھا ہے۔
ترلائی میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کے گیٹ پر جمعہ کی نماز کے دوران ہوئے خودکش دھماکے نے نہ صرف درجنوں خاندانوں کو اجاڑ دیا، بلکہ دارالحکومت کی سیکیورٹی کے تمام بلند بانگ دعوؤں کو ایک بار پھر زمین بوس کر دیا۔
اعداد و شمار سرد ہیں
69 شہید
170 سے زائد زخمی
لیکن یہ محض اعداد نہیں ہیں۔ یہ ماں ہیں جن کے بیٹے، بیٹیاں ہیں جن کے باپ، بچے ہیں جن کے والد، اور بوڑھے ہیں جن کے سہارے ایک لمحے میں چھن گئے۔
یہ کوئی اچانک سانحہ نہیں۔ یہ ایک تسلسل ہے۔ ایک پیٹرن ہے۔
نومبر 2025 — جوڈیشل کمپلیکس کے قریب خودکش دھماکہ
12 سے زائد شہید، درجنوں زخمی
حساس مقام کے باہر پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا
فروری 2026 — ترلائی امام بارگاہ پر خودکش حملہ
69 شہید، 170 زخمی
اور اس کے درمیان بھی چھوٹے بڑے واقعات، دھماکوں کی آوازیں، خوف کی لہریں۔
سوال وہی ہے جو ہر بار اٹھتا ہے
اسلام آباد جیسے شہر میں بار بار یہ کیسے ممکن ہو رہا ہے؟
ہر گلی میں ناکہ، ہر موڑ پر کیمرہ، ہر بجٹ میں سیکیورٹی کی اولین ترجیح — پھر بھی حملہ آور گیٹ تک پہنچ جاتا ہے؟
انٹیلیجنس کی معلومات کہاں غائب ہو جاتی ہیں؟
اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ کیوں نہیں ہوتا؟
حساس مقامات پر ناکارہ میٹل ڈیٹیکٹرز، ناکافی اہلکار، کمزور سی سی ٹی وی کوریج اور سطحی تلاشی — یہ سب کب تک جاری رہے گا؟
ہر دھماکے کے بعد وہی روٹین:
شدید مذمت
گہرے دکھ کا اظہار
اعلیٰ سطحی اجلاس
تحقیقات کا حکم
کمیٹی کی تشکیل
چند دن بعد سب کچھ معمول پر
لیکن ذمہ داری کس کی؟
احتساب کب؟
اصلاح کب؟
ترلائی کے شہداء کے لواحقین آج وہی سوال پوچھ رہے ہیں جو کل جوڈیشل کمپلیکس کے متاثرین پوچھ رہے تھے:
اگر دارالحکومت محفوظ نہیں تو ہم کہاں محفوظ ہیں؟
ریاست کے سامنے اب دو راستے ہیں:
ہر دھماکے کے بعد تعزیتی بیانات، تصاویر اور وعدوں کا سلسلہ جاری رکھنا
یا پھر واقعی سیکیورٹی نظام کو ازسرنو ترتیب دینا — عملی، سنجیدہ اور ناقابلِ معافی بنیادوں پر
فوری ضرورت ہے
انٹیلیجنس کے اندر حقیقی کوآرڈینیشن اور ریئل ٹائم شیئرنگ
حساس مقامات (عبادت گاہوں، عدالتی کمپلیکس، تعلیمی اداروں، مارکیٹس) پر جدید اسکیننگ، بائیو میٹرک، موثر سی سی ٹی وی اور تربیت یافتہ نفری
ناکام افسران اور افسرانِ اعلیٰ کا احتساب
حملوں کے نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کی جڑ تک پہنچنا
کیونکہ دہشت گرد صرف جانیں نہیں چھینتے۔
وہ ریاست پر عوام کا اعتماد بھی ایک ایک کر کے دفن کر دیتے ہیں۔
اور جب یہ اعتماد ختم ہو جائے گا تو نقصان صرف اسلام آباد کا نہیں — پورے ملک کا ہوگا۔
اب وقت رسمی مذمت کا نہیں۔
اب وقت عملی، فوری اور ناقابلِ معافی اقدام کا ہے۔
شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد شفا کے لیے دعا۔
اور ریاست سے التجا: اب اور انتظار نہ کروائیں۔

