امریکہ:۲۳؍ ریاستوں میں بالوں کے ذریعے خون میں داخل ہونے والے فنگس انفیکشن کی وبا

hairt 070826 l


واشنگٹن — امریکہ کی ۲۳ ریاستوں میں ایک مہلک فنگل انفیکشن "کینڈیڈا آریس” (Candida auris) کے پھیلاؤ نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسے سپربگ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ رواں سال اب تک ملک بھر میں تقریباً ۳۰۰۰ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے ۷۰۰ سے زائد اکیلے ٹیکساس میں سامنے آئے ہیں۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) نے اسے "فوری اینٹی مائیکروبیل مزاحمتی خطرہ” قرار دیا ہے، کیونکہ اس کی کچھ اقسام زیادہ تر اینٹی فنگل ادویات کے خلاف مزاحم پائی گئی ہیں۔ ادارے کے مطابق اس انفیکشن میں مبتلا افراد میں شرح اموات ۶۰ فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم اکثر متاثرین پہلے سے دیگر سنگین امراض کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اموات کا براہِ راست تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ CDC کے مطابق یہ فنگس امریکہ میں سالانہ تقریباً ۳۰۰۰ اموات میں کردار ادا کرتا ہے۔
نئی تحقیق سے یہ اہم انکشاف ہوا ہے کہ یہ فنگس بالوں کے خلیات (Hair Follicles) میں چھپ کر مہینوں تک بغیر کسی علامت کے جلد پر زندہ رہ سکتا ہے، اور وہیں سے خون کے دوران میں داخل ہو کر پورے جسم میں سفر کرتا ہے۔ محققین نے چوہوں پر تجربے میں دیکھا کہ عام فنگس "سی البیکانس” مدافعتی نظام کے ذریعے جلد ختم ہو جاتا ہے، جبکہ "سی آریس” بالوں کے کلیوں میں پناہ لے کر برقرار رہتا ہے۔ اس دوران جسم کا مدافعتی ردعمل بھی مختلف ہوتا ہے — سی البیکانس کے خلاف آئی ایل-۱۷ سگنل فعال ہوتا ہے جو انفیکشن ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ سی آریس کی صورت میں انٹرفیرون گاما فعال ہوتا ہے، جو عموماً وائرل انفیکشن سے لڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور فنگس اپنی بیرونی ساخت بدل کر اس ردعمل کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔
یو سی ایس ایف کی مائیکروبیالوجی پروفیسر اور تحقیق کی شریک سینئر مصنفہ ڈاکٹر سوزین نوبل کے مطابق، سائنسدان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ فنگس اپنے مسکن کو بہترین افزائش گاہ میں بدل دیتا ہے۔ فی الحال جلد سے اس فنگس کے مکمل خاتمے کا کوئی ثابت شدہ طریقہ موجود نہیں، اور ڈاکٹر انفیکشن پر قابو پانے کے لیے متعدد اینٹی فنگل ادویات کا مرکب استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ