
(24نیوز) امریکی محکمہ انصاف نے دس سال سے جاری مبینہ 1 ہزار جعلی شادیاں کرانے کی امیگریشن فراڈ سکیم میں ملوث 11 افراد پر فردِ جرم عائد کردی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے اس منصوبے میں ملوث 11 افراد پر فردِ جرم عائد کی ہے جنہوں نے گزشتہ دس سال کے دوران ایک ہزار جعلی شادیاں کرائیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ان جعلی شادیوں کا مقصد زیادہ تر چینی شہریوں کو امریکہ میں قانونی شہریت حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔
مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں عائد کی گئی فردِ جرم کے مطابق غیرملکی شہری مبینہ طور پر ان 6 سہولت کاروں کو ایک لاکھ ڈالر تک ادا کرتے تھے۔
اس کام کے بدلے بعض امریکی شہریوں کو بھی جعلی شادی پر 30 ہزار ڈالر تک ادا کیے جاتے تھے۔
مزید پڑھیں:امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گرکر تباہ،2افراد ہلاک
دستاویزات کے مطابق شادی کے بعد اسکیم میں شامل افراد نئے شادی شدہ جوڑوں کی امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی میں مطلوبہ کاغذی کارروائی مکمل کرنے میں مدد کرتے تھے۔
اس کے نتیجے میں متعلقہ چینی شہری امریکا میں قانونی مستقل رہائش حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی بدھ کو اعلان کیا کہ ویزا رکھنے والے افراد کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کی مہم شروع کردی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان خواتین کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو مبینہ طور پر صرف اپنے بچے کے لیے امریکی شہریت حاصل کرنے کی غرض سے امریکا آتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں اب تک ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد غیرملکیوں کے ویزے منسوخ کیے جاچکے ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کریک ڈاؤن پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت ہزاروں افراد کے سفری اور امیگریشن حقوق بھی متاثر ہوئے ہیں۔
محکمہ خارجہ کے مطابق ویزے ان غیرملکی شہریوں کے منسوخ کیے گئے جنہوں نے ویزا شرائط کی خلاف ورزی کی، جرائم میں ملوث رہے۔

