اقوام متحدہ اجلاس کے موقع پر امریکہ ڈنمارک اور گرین لینڈ میں اہم معاہدہ طے پا گیا

news 1790100966 3602



news 1790100966 3602

(24 نیوز )امریکہ نے ڈنمارک میں اپنی افواج بڑھانے کے لیے اہم معاہدہ کر لیا ہے جبکہ اس میں گرین لینڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران طے پانے والا یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کے اس مطالبے سے ہٹ کر ہے جس میں انہوں نے آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو روکنے کے لیے گرین لینڈ کو باقاعدہ امریکی علاقہ بنانے کی بات کی تھی۔ 

تاہم گرین لینڈ کے رہنماؤں کی جانب سے مکمل امریکی تسلط کی مخالفت کے بعد یہ درمیانی راستہ نکالا گیا جس کے تحت اس خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔

خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ معاہدے کے متن کے مطابق امریکا بیلسٹک میزائل کے خطرات سے بچاؤ کے لیے گرین لینڈ میں ’گولڈن ڈوم‘ ڈیفنس سسٹم قائم کر سکتا ہے، واضح رہے کہ یورپ سے شمالی امریکا کا مختصر ترین راستہ اسی آرکٹک جزیرے سے ہو کر گزرتا ہے۔

دستخط کی تقریب سے قبل اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکا کو اس علاقے میں سلامتی اور دیگر تمام ضروریات پر مستقل کنٹرول فراہم کرتا ہے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ اب امریکا کے کسی بھی حریف کو گرین لینڈ میں فوجی موجودگی قائم کرنے یا ہماری واضح تحریری منظوری کے بغیر وہاں حساس سرمایہ کاری کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ، ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کی تقریر کے بعد ایک سہ فریقی تقریب میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے اس معاہدے کو ایک ایسا اقدام قرار دیا جو ’ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے‘، ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ نیٹو اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے حق خودارادیت کا بھی مکمل احترام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قوم کی غیر متزلزل حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر





Source link

متعلقہ پوسٹ