پوسٹ خلیجی جنگ – ایکسپریس اردو

2718644 JavedQaziNEW 1728151240


امریکا اور ایران کی جنگ دنیا کو ایک نئے موڑ پر لے آئی ہے،ایک نئی سمت کی طرف جا رہی ہے۔امریکا کو مجموعی طور پردنیا کی اگر واحد نہیں تو سپر طاقت ضرور تصور کیا جا تا تھا،مگر حالیہ ایران و امریکا کی جنگ نے اس تصور کو ختم کردیا ہے۔

دو مہینے کے بعدامریکا میں مڈ ٹرم انتخابات ہیں۔امریکا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے معیشت کو کمزور کردیا ہے۔اس بات کا امکان ہے کہ ان مڈٹرم انتخابات میں دونوں ایوانوں میں ٹرمپ اپنی اکثریت شاید برقرار نہ رکھ سکیں،اگر ایسا ہوا تو ان کی صدارت کے باقی دو سال ایک کمزور صدر کی حیثیت سے گزریں گے۔

اسرائیل اس خطے میں اپنی اجارہ داری بڑی تیزی سے قائم کر رہا تھا۔اسرائیل کی اس بڑھتی ہوئی طاقت کو ایران نے اپنی مضبوط حکمت عملی اور میزائل ٹیکنالوجی سے روکا بلکہ اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور کیا۔

آبنائے ہرمز سے دنیا کے بیس فیصد تیل کی رسد بلا تعطل رواں تھی، نہ صرف یہ بلکہ اربوں ڈالر کی تجارت بھی تھی، جس سے خلیجی ریاستوں کی سمندری آزادی یقینی تھی۔اب اس جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز پر بندش کے بعد ایک غیر یقینی کی صورتحال ہے۔

امریکا کو ایران کے وسیع جغرافیہ اور اس کی قومی حیثیت کا اندازہ ہی نہیں تھا،وہ اپنی افواج کو ایران میں داخل نہیں کر سکتا تھا جیسا کہ وہ ایران سے پہلے کئی ممالک کے ساتھ ایسا کر چکا تھا۔

ایران کی جنگ سے پہلے امریکا نے اپنی طاقت کے زور پر عراق، ویتنام، افغانستان اور کئی لاطینی ممالک میں فوج کو داخل کیا مگر ایرا ن نے امریکا کی اس منصوبہ بندی پر پانی پھیر دیا۔

اس جنگ سے پہلے کچھ ایسا تاثر تھا کہ ایران میں سیستان اور کرد باغی بغاوت کریں گے۔ایران کے  عوام ملک میں مذہبی انتہا پرستی سے عاجز آچکی ہے اور وہ یقینا حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوںگے ۔

رضا شاہ، سابق ایرانی شہنشاہ کے بیٹے کو ایران کی حکومت دے دی جائے گی۔اسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان کو بھی خوب سوجھی کہ وہ پاکستان میں بحران پیدا کرے۔ مودی صاحب اسی اسکیم کو ذہن میں لیے جنگ کا آغاز کرنے سے دو دن قبل وہ اسرائیل میں نیتن یاہو سے ملے۔

تل ابیب میں پارلیمان سے خطاب کیا، نیتن یاہو نے افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت کی اور طالبان کو اس بات کا یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ چپقلش میں طالبان کی ہر طرح سے حمایت کریں گے۔

خلیجی جنگ اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے عرب ممالک کی توجہ دفاع کے لیے پاکستان کی طرف مبذول ہوئی۔ان کو پاکستان دفاعی طو رپر مضبوط نظر آیا کیونکہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں پاکستان نے ہندوستان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا۔

جس کی توقع شاید کسی کو نہیں تھی کہ پاکستان اس طرح سے اپنا دفاع کرے گا۔اس دفاعی حیثیت کو برقرار رکھنے لیے ایک مضبوط دفاعی معاہدہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پایا۔جس میں توقع ہے کہ قطر بھی شامل ہو جائے ۔

پاکستان دفاعی اعتبار سے مضبوط ہے مگر معاشی طور پر کمزور،اگر خلیج پر تیل کی رسد بند ہو جاتی ہے تو ایک بہت بڑا معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے،اس لیے یہ نیا دفاعی معاہدہ بہتر ہے۔اس دفاعی تناظر میں ہمارا مقابلہ ہندوستان سے ہے جبکہ سعودی عرب ایک طرف حوثی باغیوں سے مقابلہ کر رہا ہے، علاقائی سے تنازعات چل رہے ہیں اور اسرائیل بھی سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا نے دانستہ طور پر خلیجی ریاستوں کو دفاعی اعتبار سے کمزور رکھا۔ان کا دفاعی محافظ بن کر تیل کو ڈالر میں فروخت کرنے پر آمادہ کیا۔ترکیہ کا سیکیورٹی سسٹم بھی نیٹو اور یورپین یونین کا حصہ ہے۔اس تناظر میں ترکیہ کی معیشت بھی بدتر ہے،افراط زر کا شکار ہے۔

پہلی جنگ عظیم سے پہلے یہ تمام خلیجی ریاستیں سلطنت عثمانیہ یعنی ترکیہ کا حصہ تھیں۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کمزور ہوئی تو تمام خلیجی ریاستوں نے اپنی انفرادی اور آزادانہ حیثیت اختیار کی۔ بس اس کے بعد امریکا اور برطانیہ نے اپنی حکمت عملی کے تحت چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔

ہندوستان میں مودی صاحب اب انتخابات میں جیت نہیں پائیں گے۔اس کا جانشین امیت شا بھی اب شاید ہندوستان کا وزیر اعظم نہیں بن پائے گا۔اس وقت ہندوستان کی خارجہ پالیسی بڑی طاقتوں کے زیر اثر ہے جو ہندوستان جیسے ملک کو زیب نہیں دیتی،اگر ہندوستان میں کانگریس کی جیت ہوتی ہے تو ان کے پاس نہرو کی آزادانہ خارجہ پالیسی کا وزن ہے۔

بہرحال ہندوستان میں ایک بڑا بدلاؤ ہے اور یہ گاندھی کے بنائے ہوئے سیکولر ہندوستان کی طرف واپس لوٹ رہا ہے۔ہندوستان میں اس تبدیلی کی قیادت ایک نوجوان لڑکی نیہا بورا کر رہی ہے ، جس کا جھکا ؤ لیفٹ کی سیاست کی طرف ہے جو سیکولر ہندوستان کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہندوستان کے نوجوان اس کے ساتھ کھڑے ہیں.

ہندوستان میں جو پاکستان کا تاثر دیا گیا ہے ، یہ اس کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں۔یہ تبدیلی پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہماری معیشت کے لیے بہتر ہیں۔افغانستان میں طالبان کی حکومت یقینا ختم ہوگی۔

اس وقت پاکستان کے لیے نہ صرف دفاعی ترجیحات اہم ہیںبلکہ مضبوط معیشت بھی پاکستان کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ جہاںترکیہ اور سعودی عرب سے ہمارے دفاعی معاہدات اہمیت کے حامل ہیں، وہاںیہ بھی ضروری ہے کہ ہم معاشی اور تجارتی معاہدات کو بھی ترجیح دیں، ان معاہدات کے لیے ہمیں ساؤتھ ایشیا میں امن کی ضرورت ہے۔ 
 





Source link

متعلقہ پوسٹ