
(ویب ڈیسک )ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے بعد پیرو حکومت نے ٹرانسپورٹ شعبے کے لیے تین ماہ کی عارضی سبسڈی کا اعلان کردیا۔
پیرو کی صدر نے جمعہ کو اعلان کیا کہ مال بردار اور مسافر ٹرانسپورٹ سے وابستہ ڈرائیوروں کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کے لیے حکومت مختصر مدت کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گی۔
صدر کے مطابق یہ سبسڈی ہفتے سے نافذ ہوگی اور تین ماہ تک جاری رہے گی۔ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مطابق سبسڈی کی شرح 15 سے 20 فیصد کے درمیان رکھی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے ٹرانسپورٹرز پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کے روز برازیل کی سرحد کے قریب واقع شہر پوکالپا میں ٹرانسپورٹ ورکرز اور دیگر مظاہرین نے سڑکیں بلاک کردیں اور احتجاج کے دوران ٹائر بھی جلائے۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کا چین پر امریکی ٹیرف سےبچنے کیلئے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکا دہی کا الزام
مقامی گروہوں نے مشرقی علاقے اوکایالی میں ہڑتال بھی کی، جہاں مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے دارالحکومت لیما سے دور رہنے والے گھرانوں اور کاروباری افراد کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
صدر کیکو فوجیموری نے معیشت کے وزیر ایلمر کیوبا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ایک عارضی طریقہ کار ہے جس کا مقصد ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا بوجھ کم کرنا ہے۔
حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سبسڈی کا اطلاق خاص طور پر مال بردار اور مسافر ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد پر ہوگا، تاکہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی لاگت کے اثرات کو محدود کیا جاسکے۔

