قاہرہ (اسٹاف رپورٹ) — حماس نے بورڈ آف پیس اور ثالثی کار ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں روکنے اور دوسرے مرحلے کے لائحۂ عمل کی منظوری دینے پر مجبور کریں۔
یہ مطالبہ حماس قیادت اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے جیرڈ کشنر کے درمیان قاہرہ میں دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ مذاکرات میں بورڈ آف پیس کے نمائندے نکولے ملادینوف بھی شریک تھے۔
حماس نے کشنر کو اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیوں کی تفصیلات پیش کیں اور واضح کیا کہ اسرائیل کی پیشگی منظوری کے بغیر نئے اقدامات قبول نہیں کیے جائیں گے۔ کشنر نے یقین دہانی کرائی کہ ٹرمپ منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے مخالف ہیں، مگر انہوں نے فلسطینی دھڑوں کی تخفیفِ اسلحہ کو آئندہ مراحل کی شرط قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق بورڈ آف پیس حماس سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنا فوجی ڈھانچہ ختم کرے، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی کی اجازت دے اور انتظام آزاد فلسطینی ماہرین کی کمیٹی کے حوالے کرے، جس کے تحت مستقبل میں غزہ کی حکمرانی میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
توقع ہے کہ کشنر پیر کو تل ابیب جا کر نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ اسرائیلی حکام کو امریکی مطالبے پر تشویش ہے جبکہ نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ انخلا سے قبل فلسطینی تنظیموں کی تخفیفِ اسلحہ ضروری ہے۔
حماس نے اپنی ترجیحات میں فوجی دراندازیوں کا فوری خاتمہ، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، امدادی سامان کی فراہمی، انتظامی کمیٹی کا قیام اور غزہ کی تعمیرِ نو کا آغاز شامل کیا ہے۔

