نتن یاہو کے الیکشن پوسٹر پر ظہران ممدانی آیت اللہ اور دیگر اسرائیل مخالف رہنماؤں کے ساتھ

397756 405023691


اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کی جماعت لیکود نے آئندہ اسرائیلی انتخابات کی مہم کے لیے ایک اشتہار جاری کیا ہے جس میں نیویارک کے مسلمان میئر ظہران ممدانی کو ایران اور حزب اللہ کے رہنماؤں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

اسرائیلی دارالحکومت میں ٹی وی پر نظر آنے والے اشتہار میں ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم اور ظہران ممدانی کو سیاہ پس منظر میں دکھایا گیا ہے۔

اشتہار کے ساتھ لکھا ہے، ’وہ چاہتے ہیں کہ نتن  یاہو ہار جائیں، انہیں جیتنے نہ دیں۔‘

نتن  یاہو نے بھی یہ تصویر سوشل میڈیا پر دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’انہیں جیتنے نہ دیں۔‘

یہ اشتہار نیویارک کے میئر ممدانی اور نتن  یاہو کے درمیان جاری لفظی تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔

ممدانی نے امریکی وفاقی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے بعد 2024 میں عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے نتن  یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کرے۔

اگرچہ امریکہ عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے، تاہم وارنٹ گرفتاری کے باعث نتن  یاہو بین الاقوامی سطح پر مطلوب ملزم ہیں اور عدالت کے 124 رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ ان کے اپنے علاقے میں داخل ہونے کی صورت میں انہیں گرفتار کریں۔

ممدانی نے گذشتہ ماہ ’نیویارک ٹائمز‘ کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں نتن  یاہو کو دی ہیگ (کی عدالت کے کٹہرے میں) میں ہونا چاہیے۔

انہوں نے نتن  یاہو کو ’جنگی مجرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’وہ جنگی مجرم ہیں جن پر عالمی فوجداری عدالت نے فرد جرم عائد کی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت سے لوگ صرف ان کے گذشتہ کئی برس کے اقدامات کی وجہ سے یہ رائے رکھتے ہیں۔‘

ممدانی نے کہا تھا کہ وہ نتن  یاہو کی گرفتاری کے ممکنہ طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم بعد میں واضح کیا کہ یہ معاملہ ان کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے اور انہوں نے وفاقی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نتن  یاہو کا دفاع کرتے ہوئے اپنے ’ٹروتھ سوشل‘ اکاؤنٹ پر کہا تھا کہ نتن  یاہو کو امریکہ میں ’کسی بھی صورت، کسی بھی طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔‘

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈانن نے ممدانی پر یہود مخالف ہونے اور حماس کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا جبکہ نتن  یاہو نے ممدانی کے بیان کو ’نفرت انگیز بیان‘ قرار دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تنازع کے باوجود نتن  یاہو نے جولائی میں ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران امریکہ کا آٹھواں سرکاری دورہ کیا۔

نتن  یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری

عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں نتن  یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ان پر غزہ میں ’جنگ کے ایک طریقے کے طور پر بھوک کو استعمال کرنے‘ اور ’شہری آبادی کے خلاف جان بوجھ کر حملے کی ہدایت‘ سمیت جنگی جرائم کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ان پر آٹھ اکتوبر 2023 سے کم از کم 20 مئی 2024 تک ’قتل عام، ایذا رسانی اور دیگر غیر انسانی اقدامات‘ سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ نتن  یاہو ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں ’یہود مخالف‘ قرار دے چکے ہیں۔

اسرائیل میں رواں سال اکتوبر میں انتخابات ہوں گے، جو سات اکتوبر کے بعد نتن  یاہو کی وزارت عظمیٰ کا پہلا بڑا انتخابی امتحان ہوں گے۔ سات اکتوبر کے بعد انتخابات معطل اور ملتوی کر دیے گئے تھے۔

اسرائیل میں آخری انتخابات 2022 میں ہوئے تھے، جن کے بعد نتن  یاہو کی لیکود جماعت نے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن غفیر اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ