اسلام آباد — وزارتِ داخلہ نے پاکستان میں آن لائن فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث 284 غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرکے انہیں 15 روزہ ون ٹائم ایگزٹ پرمٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث غیرملکیوں کی نشاندہی، تفتیش اور شناخت کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ ملکی سلامتی اور معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق متاثرہ افراد کے خلاف مختلف ریلیف اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد ہیں جن میں آن لائن مالی دھوکہ، شناختی چوری اور فنانشل اسکیمز شامل ہیں۔ ویزہ منسوخی کے بعد انہیں قانون کے تحت 15 روزہ ایگزٹ پرمٹ دیا گیا ہے جس کے دوران وہ اپنے وطن واپس جا سکیں گے۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کیس میں مزید تفتیش کی ضرورت محسوس ہوئی تو متعلقہ افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
حکام نے یہ واضح کیا کہ اس کارروائی کا مقصد غیرقانونی آن لائن سرگرمیوں کو روکنا اور متاثرہ افراد کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔ وزارت نے بین الاقوامی شراکت داری اور متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے بڑھانے کا عندیہ بھی دیا تاکہ انسداد فراڈ کے امور میں باہمی تعاون ممکن بنایا جا سکے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویزہ منسوخی اور فوری ملک بدری کے فیصلے عام طور پر مجرمانہ الزامات، قومی سلامتی یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں پر مبنی ہوتے ہیں، تاہم متاثرین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر ازخود اور سفارتی چینلز کے ذریعے اپنے کیس کی تفصیلات حاصل کریں یا قانونی چارہ جوئی کریں۔
سائبر کرائم کے حوالے سے بین الاقوامی برادری میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور متنوع تفتیشی نیٹ ورکس کی بنا پر، یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے اقدامات آن لائن فراڈ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وزارتِ داخلہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ مشتبہ آن لائن لین دین اور جعلی اسکیمز کی بابت فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

