
( ویب ڈیسک )روس میں پٹرول کی قلت ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور کم از کم 10 علاقوں میں مقامی حکام نے پٹرول اسٹیشنز پر موٹر ایندھن کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں سخت کر دی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ماسکو کے علاقے میں بعض پٹرول اسٹیشنز پر پیر کے روز پٹرول دستیاب نہیں تھا، تاہم تقریباً تمام اسٹیشنز پر ڈیزل موجود تھا۔ پٹرول کی قلت کے باعث بعض مقامات پر گاڑیوں کی قطاریں بھی دیکھی گئیں۔
روس میں ایندھن کا بحران رواں سال مئی میں شدت اختیار کرنا شروع ہوا تھا اور جولائی تک ملک کے تقریباً تمام علاقوں تک پھیل گیا تھا۔ اس بحران کی بڑی وجوہات میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں متعدد آئل ریفائنریوں کا بند ہونا اور موسم کے باعث ایندھن کی طلب میں اضافہ شامل ہیں۔
ایندھن کی ملکی سپلائی بہتر بنانے کے لیے روسی حکام نے پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ایندھن کے معیار سے متعلق بعض تقاضے بھی نرم کیے اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد شروع کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:رین ایمرجنسی نافذ! واسا ملازمین کی چھٹیاں منسوخ
جولائی کے اختتام تک صورتحال میں کچھ بہتری آئی تھی اور بعض علاقوں میں ایندھن کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم یا نمایاں طور پر کم کر دی گئی تھیں، تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
جولائی کے آخر اور اگست کے آغاز میں آئل ریفائنریوں پر ڈرون حملوں کی نئی لہر کے بعد ایک بار پھر ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی اور مختلف علاقوں میں پابندیاں دوبارہ نافذ کرنا پڑیں۔
روسی حکومت کے مطابق ملک کے کئی علاقوں میں پٹرول اسٹیشنز کو ایندھن کی فراہمی بدستور مشکل ہے۔ حکومت نے اورینبرگ، لیپیٹسک، ٹوور، کراسنودار، زابائیکالسکی، پریمورسکی، کراسنویارسک، اوریول، تووا اور خاکاسیا سمیت متعدد علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

