ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور ساتھ ہی انہوں نے امن کی کوششوں میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مذاکراتی عمل کی مدت 17 اگست کو مکمل ہوئی جس کے بعد ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے پیر کو انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل میں توسیع کر دی گئی ہے۔
تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقررہ 60 روزہ مدت پیر کو بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئی ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے تہران کے حوالے سے اپنا لہجہ مزید سخت کر دیا اور ان کی انتظامیہ نے اقتصادی دباؤ کے ایک ایسے نئے مرحلے کی تیاری شروع کردی ہے جسے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ’بے مثال‘ قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو فون پر فاکس نیوز کے چیف فارن کرسپانڈنٹ ٹری ینگسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں (ایران) سفید جھنڈا لہرا دینا چاہیے اور ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جلدی میں نہیں ہیں اور اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان کا پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کے ساتھ براہِ راست بیک چینل رابطہ موجود ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اب ترکی نے بھی حمایت کی پیشکش کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک ایوانِ صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اردغان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے سفارت کاری سے بھرپور فائدہ اٹھانا انتہائی اہم ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ مذاکرات جاری رہیں گے، اور ترکی امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔‘
یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے پیر کو روئٹرز کو بتایا کہ ایران اپنی فوجی حکمتِ عملی کو ’مکمل طور پر جارحانہ‘ انداز میں تبدیل کرے گا، کیونکہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں اور واشنگٹن نے عارضی جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں میں بھی پیش رفت رک گئی ہے۔
ترکی نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر تنقید کی ہے، تاہم خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

