پاکستان کی حکومت نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے بدھ کو نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔
سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ فیصلہ ان کے اہلِ خانہ اور حامیوں کے طویل عرصے سے جاری مطالبے کے بعد آیا، جو ان کی بینائی اور مجموعی صحت کے بارے میں مسلسل خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
درخواست چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ ’یہ حکم عدالت کے اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے، لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے۔‘
نظر ثانی درخواست میں کیا موقف اختیار کیا گیا؟
درخواست کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو 5 اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔
نظر ثانی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بعض صورتوں میں حکومت کی منظوری اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے ذریعے کارروائی ضروری ہوتی ہے۔ ہسپتال منتقل کیے جانے والے قیدی کی پولیس نگرانی بھی لازم ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ یہ معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے سامنے مقرر ہوا اور متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا تھا۔
’بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ پہلے بھی باقاعدگی سے ہوتا رہا ہے، جبکہ میڈیکل بورڈ متعدد مرتبہ ان کا معائنہ اور علاج کر چکا ہے۔‘
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’عدالت کو طبی ماہرین کی رائے لینے کے بعد یہ فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ آیا بانی پی ٹی آئی کی صحت کی صورت حال واقعی خراب ہوئی ہے یا نہیں۔‘
پی ٹی آئی سیاست کر رہی ہے: وفاقی وزرا
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ عدالتی حکم نامے کے باوجود پی ٹی آئی سیاست کر رہی ہے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ’درخواست کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے۔ قیدیوں کو جیل میں جو بھی سہولیات فراہم کرنی ہوتی ہیں، ہوتی رہیں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے کوشش کی کہ سیاست اس میں نہ آئے، عدالت نے بھی قدغن لگائی کہ سیاست نہ کریں۔ کورٹ کا معاملہ سیاست سے الگ رہنا چاہیے۔‘
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کہا کہ ’عدالت نے نمایاں انداز میں کہا تھا کہ اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے، ان (پی ٹی آئی) کا کردار دیکھتے ہوئے کہا گیا کہ آپ سیاست نہیں کریں گے، کیونکہ انہیں (عدالت کو) پتہ تھا کہ یہ کریں گے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا: ’اور پھر مجھے بتائیں کون سیاست کر رہا ہے، این آر او سے اسے کون جوڑ رہا ہے؟‘
طلال چوہدری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حالیہ میڈیکل رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’پاکستان کے ہر جوان کی رپورٹیں ایسی ہی ہیں، عدالت نے (ہسپتال منتقلی کا) فیصلہ دیا تو اچھا کیا، تاکہ انہیں بہانہ نہ ملے۔‘
عمران خان کب سے جیل میں ہیں اور ان کی صحت کے مسائل
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں۔ رواں برس انہیں دائیں آنکھ میں ریٹینا سے متعلق ایک بیماری تشخیص ہوئی تھی، جس کے بارے میں ان کے وکلا نے خبردار کیا تھا کہ اس سے بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کی جماعت پی ٹی آئی مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے منتخب کردہ ڈاکٹروں سے کروایا جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت اور تعاون کے ساتھ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیں، جس میں ایک فزیشن، جنرل سرجن، داخلی امراض کے ماہر، ماہرِ امراضِ چشم اور ماہرِ امراضِ قلب شامل ہوں، تاکہ وہ عمران خان کا معائنہ اور علاج کر سکیں۔
عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش جنوری میں اس وقت سامنے آئی تھی جب ان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی۔ یہ ایسی بیماری ہے جس میں ریٹینا سے خون واپس لے جانے والی مرکزی رگ بند ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں شدید یا مستقل بینائی کا نقصان ہو سکتا ہے۔
24 جنوری کو انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا، جہاں حکومت کے مطابق ان کی رضامندی سے تقریباً 20 منٹ کا ایک طبی طریقۂ علاج انجام دیا گیا، تاہم پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہلِ خانہ نے کہا کہ انہیں اس منتقلی یا طریقۂ علاج سے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور حکام پر الزام لگایا کہ علاج سے متعلق فیصلوں میں ان کے خاندان، وکلا اور ذاتی ڈاکٹروں کو شامل نہیں کیا گیا۔
فروری میں بھی عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے دوسرا انجیکشن لگوانے پمز لے جایا گیا، جس پر پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اعتراض کرتے ہوئے ان کے طبی علاج کے معاملات میں مبینہ رازداری پر سوالات اٹھائے۔
جیل حکام نے پیر کو سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ علاج کے بعد عمران خان کی بینائی ’تقریباً معمول کے مطابق‘ ہو گئی ہے اور ان کا باقاعدگی سے سرکاری ڈاکٹروں کے ذریعے معائنہ کیا جاتا رہا ہے۔
عدالت میں جمع کروائی گئی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان کے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ اور بے چینی کی علامات دیکھی گئی ہیں۔

