ایران کی میزائل داغنے کی تردید، یو اے ای نے تہران سے تجارت معطل کر دی

397790 1409867146


متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے منگل کو ایران پر خلیج میں بحری جہازوں کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا، تاہم تہران نے اس الزام کی تردید کر دی۔

یو اےا ی کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا: ’متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاع نے ایران سے ملک کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا، جن میں سے پہلا ملک کی علاقائی حدود سے باہر گرا جبکہ دوسرا علاقائی پانیوں میں گرا۔‘

بعد میں جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں کہا گیا: ’جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ ایران سے آنے والے جن دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا گیا تھا، ان کا ہدف بحری آمدورفت تھا اور وہ سمندر میں جا گرے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’متحدہ عرب امارات کے اس دعوے کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا‘ کہ ایران نے یو اے ای کی جانب میزائل داغا تھا۔ انہوں نے اسے علاقائی اعتماد اور سلامتی کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جہاں سے خلیج سے باہر جانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کو گزرنا پڑتا ہے، اس وقت تک بند رہے گا جب تک وہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے تک نہیں پہنچ جاتا۔

دوسری جانب علاقائی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات نے منگل کو رات دیر گئے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالی لین دین آئندہ اطلاع تک معطل کر دیے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی مواصلات کی ڈائریکٹر عفرا الحمّیلی نے کہا: ’علاقائی کشیدگی کے پیش نظر ایران کے ساتھ تمام تجارت، تجارتی تبادلے اور مالی لین دین آئندہ اطلاع تک روک دیے گئے ہیں۔‘

حملوں سے متعلق متحدہ عرب امارات کا پہلا بیان ایک مختصر فون الرٹ کے تقریباً دو گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں شہریوں کو ’ممکنہ میزائل خطرے‘ سے خبردار کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ نے فون الرٹ میں کہا: ’موجودہ صورت حال اور ممکنہ میزائل خطرات کے پیش نظر فوری طور پر قریبی محفوظ عمارت میں محفوظ مقام تلاش کریں۔‘ یہ الرٹ کچھ ہی دیر بعد واپس لے لیا گیا۔

یہ جون میں جاری کیے گئے غلط انتباہ اور جولائی میں جاری کیے گئے ایک انتباہ کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا الرٹ تھا، جس میں اس حملے سے متعلق خبردار کیا گیا تھا جو بالآخر متحدہ عرب امارات کی حدود میں داخل نہیں ہوا۔ اس سے قبل میزائل کے حوالے سے آخری انتباہ مئی کے اوائل میں جاری کیا گیا تھا۔

ریاستی ملکیتی تیل کمپنی ’ادنوک‘ سے تعلق رکھنے والے ٹینکرز کو گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بارہا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ردعمل میں تہران کے حملوں کا سب سے زیادہ سامنا متحدہ عرب امارات کو کرنا پڑا، جہاں تقریباً 3,000 میزائل اور ڈرونز داغے گئے، جو خطے کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ تھے۔

جون میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد، جو بعد میں ختم ہو گئی، متحدہ عرب امارات نے کسی حملے کی اطلاع نہیں دی جبکہ خلیج کی دیگر ریاستوں میں حملے جاری رہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ