ایردوان کی آق پارٹی کے پچیس برس

FxQCVVsWYAIDTu2


ایک بڑا سوال  یہ ہے کہ سویلین حقوق کی طویل لڑائیوں کے دوران عوام کی جو بے پایاں وفاداری اور عقیدت آق پارٹی کو حاصل ہوئی تھی، اس عظیم سیاسی ورثے کو ایردوان کے بعد کون سنبھالے گا؟وہ کون سا ایسا رہنما ہو گا جو بیک وقت اناطولیہ کے ایک چھوٹے دکاندار، استنبول کے جدید کاروباری بلڈر، بحیرہ اسود کے مذہبی قدامت پسند اور وسطی اناطولیہ کے سخت گیر قوم پرست ووٹر کے دل کو چھو سکے اور ان سب کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد رکھ سکے گا؟

FxQCVVsWYAIDTu2

فوٹو بہ شکریہ: Twitter/@RTErdogan

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے نیشنز گارڈن (ملت باہچیسی)  میں جب شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، تو ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ پچیس برسوں کے طویل اور کٹھن سیاسی سفر کی تھکن ان کے قدموں سے جھلک رہی تھی اور وہ شاید اب اس تیز رفتاری اور جوش کے ساتھ نہیں چل پا رہے تھے ، لیکن مائیک سنبھالتے ہی ان کی آواز میں وہی پرانی گرج اور جادوئی للکار تھی جس نے سامنے موجود لاکھوں انسانوں کے سمندر کو مسحور کر کے رکھ دیا۔

انہوں نے اپنے اسی پرجوش اور سحر انگیز انداز میں عوام کو 2003 سے پہلے کے اس تاریک، شکستہ حال اور بے بس ترکیہ کی یاد دلائی جو سیاسی انتشار، معاشی دیوالیہ پن اور فوجی تسلط کے بوجھ تلے سسک رہا تھا۔

انہوں نے ہجوم کو یاد دلایا کہ کس طرح ان کی پارٹی کی آمد نے اس قوم کے مقدر کو بدل کر رکھ دیا اور ترکیہ کو بحرانوں کے دلدل سے نکال کر عالمی وقار کی بلندیوں تک پہنچایا۔

یہ جلسہ برسر اقتدار انصاف و ترقی پارٹی جسے عرف عام میں آق پارٹی کہتے ہیں، کے 25سال مکمل ہونے کی خوشی میں منعقد کیا گیا تھا۔ کثیر جماعتی اور مسابقت والے جمہوری  نظام میں کسی سیاسی جماعت کا مسلسل اتنے طویل عرصے تک حکمران رہنا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔  14 اگست ، 2001 کو وجود میں آئی اس نومولود سیاسی جماعت کو ملکی سیاست کے افق پر ابھرنے اور عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے لیے محض پندرہ ماہ کا مختصر ترین وقت درکار ہوا۔

یہ جماعت نومبر 2002 میں حکومت میں آئی اور پھر ابھی تک ایوانِ اقتدار سے باہر نہیں ہوئی ہے۔ اپنے پچیس سالہ سفر کے دوران تقریباً چوبیس برسوں تک اس نے  سیاست میں مرکزی حیثیت برقرار رکھی ہے۔

اس سفر کے دوران عدالتوں اور فوجی مداخلتوں کے ذریعے اس کے وجود کو ختم کرنے کی قانونی ، آئینی اور انتظامی کوششیں کی گئی۔ جولائی 2016 میں تو ایک خونریز فوجی بغاوت نے بھی اس کی بقا کا امتحان لیا۔

اس جماعت کے  اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد یعنی 2003میں اس کے بانی رجب طیب ایردوان، ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے، پھر 2014  میں صدر کے منصب پر فائز ہوئے، اور بالآخر ایک بنیادی طور پر تبدیل شدہ صدارتی و انتظامی نظام کے تحت ملک کے پہلے بااختیار صدر بن گئے۔

یہ سوال غور طلب ہے کہ 2001 میں جنم لینے والی ایک نئی سیاسی جماعت کس طرح اکیسویں صدی کے پہلے پچیس برسوں میں جدید ترکیہ کی شناخت اور اس کے وجود کا بنیادی استعارہ بن گئی؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایردوان ترکیہ کی روایتی اسلامی سیاسی تحریک کی گود سے ہی ابھر کر سامنے آئے۔ لیکن صرف مذہبی و قدامت پسند ووٹر تنہا ان کے حق میں اتنے ووٹ اکٹھے نہیں کر سکتے تھے جن کے بل بوتے پر وہ پے در پے اتنے بڑے پیمانے پر قومی فتوحات حاصل کرتے رہے۔

ان  کا سب سے بڑا سیاسی اور تزویراتی کمال یہ ہے کہ انہوں نے آق پارٹی کی صورت میں ایک ہمہ جہت اور وسیع تر عوامی اتحاد کو جوڑا ، جس کا بنیاد ی حمایتی  ووٹر اسلام پسند ہے، مگر اس نے اپنے ساتھ ترک قوم پرست ،بائیں بازو ، لبرل جمہوریت پسند ووٹر وں کو ساتھ ملا کر فوج کی پشت پناہی سے قائم سخت گیر سیکولر نظام کو چیلنج کیا۔ چھوٹے قصبوں کے ابھرتے ہوئے تاجروں اور اناطولیہ کے نئے متوسط طبقے کو اس قیادت میں معاشی استحکام، ترقی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کی نئی امید دکھائی دی۔

نیویارک ٹائمز کے استنبول بیورو کے سابق سربراہ اور معروف کتاب کریسنٹ اینڈ اسٹار: ترکی بیٹوین ٹو ورلڈزکے مصنف اسٹیفن کنزر کے مطابق ایردوان نے دو ایسے بااثر گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیابی حاصل کی جو تاریخی طور پر ہمیشہ ایک دوسرے کو شدید نفرت اور شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ آق پارٹی نے مذہبی شعور رکھنے والے قدامت پسند طبقے اور جدید جمہوریت کے علمبرداروں کو یکجا کردیا۔ پچیس سال گزرنے کے بعد بھی ایردوان کی سیاست کی تفہیم کے لیے یہ تجزیہ ایک بہترین بنیاد فراہم کرتا ہے۔

آق پارٹی ترکیہ کی تاریخ کے ایک انتہائی تلخ، تاریک اور تباہ کن دہائی کے فوراً بعد اقتدار میں آئی تھی۔ملک اس سے قبل شدید عدم استحکام کی شکار مخلوط حکومتوں، پراسرار سیاسی ہلاکتوں، کرد علیحدگی پسندی اور شورش، سنگین مالیاتی عدم استحکام، اور طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بار بار کی سیاسی مداخلتوں کے دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔

فوج خود کو جمہوریہ اور آئین کا واحد اور حتمی نگہبان سمجھتی تھی۔بار بار کی فوجی بغاوتوں کے علاوہ 1997 میں فوجی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے و زیر اعظم نجم الدین اربکان کی منتخب حکومت کو اقتدار سے باہر کر دیا گیا تھا۔

ایردوان ان کی رفاہ پارٹی کے ایک رکن تھے۔ اس اقدام، جسے جدید فوجی انقلاب کا نام دیا گیا، کے بعد ایسے سخت گیر ریاستی قوانین نافذ کیے گئے جن کا مقصد ملک میں مذہبی تعلیم کو محدود کرنا اور عوامی زندگی و ریاستی اداروں میں اسلامی شناخت اور اس کے اثرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا۔

سر پر اسکارف یا حجاب لینے والی طالبات اور خواتین کے لیے یونیورسٹیوں، عدلیہ، پارلیامان اور تمام سرکاری محکموں کے دروازے سختی سے بند کر دیے گئے۔

تاریخی امام حاطب مذہبی اسکولوں کے نصاب پر شکنجہ کس دیا گیا اور ان کے فارغین پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے۔سیاسی جماعتوں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور کئی کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔گو کہ اس طرح کے قوانین اس سے قبل بھی ترکیہ میں 1923 سے رائج تھے، مگر ان میں بتدریج نرمی لائی گئی تھی، جو اب دوبارہ سخت کردی گئیں۔

انہی حالات میں ایردوان کا عروج ہو رہا تھا۔  ایک محنت کش متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے استنبول کے پسماندہ محلے قاسم پاشا میں پروان چڑھنے والے ایردوان نے اربکان کی سیاسی تحریک میں نچلی سطح کے کارکن کے طور پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور بالآخر  1994 میں استنبول کے میئر منتخب ہو کر سب کو حیران کر دیا۔

کنزر نے نوجوان ایردوان کو ایک ایسی شخصیت قرار دیا جو استنبول کے روایتی اشرافیہ، مغربی ذہنیت کے حامل ایلیٹ کلاس اور سیکولر بیوروکریسی سے کوسوں دور تھا۔ وہ ایک سابق فٹ بالر اور محنت کش سیلزمین تھے جن کی گہری مذہبی وابستگی اور پابندیِ شریعت نے انہیں قدرتی طور پر اسلام پسند عوامی سیاست کی طرف مائل کیا تھا۔

مگر بطور مئیر انہوں نے جس طرح استنبول جیسے بڑے شہر کا انتظام چلایا، وہ ہی ان کی عوامی مقبولیت کا باعث  بنا۔ کوڑے کرکٹ اور تعفن کا شکار آبنائے باسفورس اور شاخ زریں جیسی پانی کی گذرگاہوں کی مکمل صفائی، ا ستنبول کے دہائیوں پرانے پانی کے شدید بحران کا مستقل خاتمہ، نکاسیِ آب کے ناقص نظام کی درستی، کچرے کو ٹھکانے لگانے کے جدید انتظامات اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو سنوارنا ان کے دورِ حکومت کی نمایاں پہچان بن گئے۔

ایردوان نے سیاست اور عوامی نفسیات کے بنیادی سبق کو دیگر روایتی سیاست دانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرائی سے سمجھ لیا تھا۔ان کے مطابق ایک سیاست دان اپنی آتشیں اور جوشیلی تقریروں اور نظریات کا استعمال کرکے عوام سے داد اور وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتا ہے، لیکن شہریوں کی پائیدار وفاداری غریب اور امیر دونوں کے گھر کے نلکوں میں صاف پانی کے بہنے سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔

لیکن ان کا ابھرتا ہوا سیاسی کیریئر اس وقت بظاہر ہمیشہ کے لیے ختم ہوتا دکھائی دیا جب ایک جلسہ عام میں محض ایک اسلامی و قومی نظم کے اشعار پڑھنے کے جرم میں ان پر عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کر دی گئی، ان کے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر تاحیات پابندی لگا دی گئی اور انہیں کئی ماہ کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

مگر اس قید و بند نے ایردوان کو زیادہ پختہ کار، نڈر اور تزویراتی صلاحیتوں سے لیس سیاست دان بنا کر ابھارا۔

سترہ اگست 1999 کو شمال مغربی ترکیہ میں ایک انتہائی خوفناک زلزلہ آیا جس نے پورے خطے کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ اس زلزلے کا مرکز صنعتی پٹی کے قلب میں واقع شہر ازمیت کے قریب تھا، جو استنبول کے گنجان آباد شہر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ اس المناک آفت میں تقریباً اٹھارہ ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔

اس قدرتی آفت نے ملک میں جاری ناقص، غیر معیاری تعمیرات، ضوابط کے مکمل فقدان اور ریاستی بدعنوانی کو بے نقاب کر دیا۔ حکومتی اداروں کا امدادی ردعمل انتہائی سست، لاچار اور نااہل ثابت ہوا۔

ترک صحافی مہموت اوزترک اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس آفت اور حکومت کی بے حسی نے روایتی سیاسی جماعتوں کے خلاف عوام کے دلوں میں شدید غصہ، نفرت اور بیزاری بھر دی، جس نے درحقیقت اس انتخابی انقلاب کی راہ ہموار کی جو ٹھیک تین سال بعد ایردوان کی نئی جماعت کو اقتدار کے ایوانوں میں لے آئی۔

اس المیے کے فوراً بعد، 2001 میں ترکیہ پر بدترین مالیاتی و اقتصادی تباہی ٹوٹ پڑی۔ ملک کے بڑے بڑے بینک دیوالیہ ہو گئے۔ لاکھوں کاروبار بند ہو گئے۔ افراطِ زر آسمان سے باتیں کرنے لگا اور ترک لیرا کی قیمت کوڑیوں کے مول آ گئی۔ترکیہ نے  1961 سے لے کر اس وقت تک عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ انیس مختلف بیل آؤٹ معاہدے کیے تھے۔

صدی کے آغاز پر آنے والے اس خوفناک بحران کے نتیجے میں ترکیہ پر عالمی مالیاتی فنڈ کا قرضہ بڑھ کر تقریباً ساڑھے تیئیس ارب ڈالر تک جا پہنچا تھا۔ کرنسی کی زبوں حالی کا عالم یہ تھا کہ سال 2000 میں ایک امریکی ڈالر کے بدلے چھ لاکھ بیس ہزار سے ساڑھے چھ لاکھ تک ترک لیرا ملتے تھے۔

ان تباہ کن حالات کے پس منظر میں، 14 اگست 2001 کو ایردوان اور ا ن کے سیاسی ساتھیوں نےاربکان سے علیحدگی اختیار کرکے ایک نئی آق پارٹی کی بنیاد رکھی۔پارٹی کے باضابطہ آغاز اور منشور کے اعلان کے وقت ایردوان نے ایک تاریخی جملہ کہا، جو آج کسی روایتی انتخابی نعرے کے بجائے ایک سچی پیش گوئی معلوم ہوتا ہے،’اب ترکیہ میں کبھی بھی کچھ پہلے جیسا نہیں رہے گا۔‘ترک عوام نے ان پر بھروسہ کرکے محض پندرہ ماہ بعد ووٹوں کے ذریعے ان کو اقتدار تک پہنچادیا۔

تین نومبر 2002 کے تاریخی عام انتخابات میں، آق پارٹی نے 34.28 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ چونکہ ملک کی روایتی اور قائم شدہ سیکولر و قوم پرست جماعتیں دس فیصد کی لازمی انتخابی حد عبور کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی تھیں، اس لیے اس نئے سیاسی قافلے کو تن تنہا پارلیامان میں دوتہائی کے قریب تاریخی اکثریت حاصل ہو گئی۔

تاہم، رجب طیب ایردوان خود پارلیامنٹ کے رکن نہیں بن سکتے تھے کیونکہ ان پر عدالتی سزا اور سیاسی پابندی کا قانون اب بھی پوری قوت سے نافذ تھا۔چنانچہ ان کے قریبی ساتھی عبداللہ گل نے وزیر اعظم بن کر عبوری حکومت تشکیل دی۔

جب نئی منتخب پارلیامنٹ نے آئین اور متعلقہ انتخابی قوانین میں ضروری ترامیم منظور کیں، تو مارچ 2003 میں سرت کے علاقے میں دوبارہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں ایردوان نے حصہ لیا، بھاری اکثریت سے پارلیامنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور بالآخر ملک کے وزیر اعظم کا منصب سنبھال لیا۔

وہ رہنما جو کل تک قیدی بنا کر جیل میں ڈالا گیا تھا، اب اسی حکومت کا سب سے بڑا سربراہ اور بااختیار حکمران بن چکا تھا جس نے کبھی اسے قید کیا تھا۔

اسٹیفن کنزر کا کہنا ہے کہ کہ مارچ 2003 میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ایردوان نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ ان کی فوری اور اولین ترجیح مذہبی عبادات یا رسومات پر سے پابندیاں ہٹانا نہیں، بلکہ ترکیہ کو یورپی یونین کا مکمل رکن بنوانا ہے۔

یورپی یونین کی شرائط میں ملک میں مکمل جمہوریت کا اطلاق، سویلین بالادستی کا قیام، انسانی حقوق کے بنیادی ڈھانچے میں وسیع اصلاحات اور فوج کے ان تمام اداروں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا شامل تھا جن کے ذریعے فوجی اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں پر اپنی سرپرستی اور حکمرانی قائم رکھتی تھی۔

اس صورتحال میں سیکولر اور لبرل دانشوروں نے بھی، جنہیں سیاسی اسلام یا دینی تحریکوں سے رتی برابر بھی ہمدردی نہیں تھی، ان اصلاحات کی  غیر مشروط حمایت کی۔نیشنل سکیورٹی کونسل کا ڈھانچہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا اور اس میں سویلین ارکین کے اثر و رسوخ کو وسیع کر دیا گیا۔ فوج کے خفیہ اور ترقیاتی بجٹ کو پارلیامانی جانچ پڑتال اور آڈٹ کے تابع کر دیا گیا۔

بدنامِ زمانہ ریاستی سکیورٹی عدالتوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا، اور وسیع قانونی ترامیم کے ذریعے ملک میں کردوں اور دیگر اقلیتوں کے ثقافتی و لسانی حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔آئینی عدالت میں  فوجی ممبرشپ ختم کر دی گئی۔ 2004 تک یورپی اداروں نے اعتراف کرنا شروع کر دیا کہ یورپی یونین کی امیدواری کے عمل کے تحت ترکیہ میں سویلین اتھارٹی اور جمہوری اداروں کے اختیارات میں تاریخی، غیر معمولی اور گہرا اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی دوران اس نوخیز اور ابھرتی ہوئی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کے پہلے اور انتہائی اعصاب شکن امتحان کا سامنا کرنا پڑا۔ 2003 میں امریکہ، عراق پر مکمل فوجی یلغار اور جارحیت کی تیاریاں مکمل کر رہا تھا۔

پینٹاگون کے فوجی منصوبہ ساز صدر صدام حسین کی حکومت پر جنوبی اور شمالی دونوں سمتوں سے بیک وقت کاری ضرب لگانا چاہتے تھے۔ اس شمالی محاذ کے قیام اور اپنی فوجوں کے گزرنے کے لیے انہیں ترکیہ کی سرزمین اور اڈوں کی اشد ضرورت تھی۔

امریکی منصوبہ سازوں نے پرانی روایت کے پیشِ نظر یہ فرض کر لیا تھا کہ انقرہ بلا چوں و چرا ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لے گا۔ اس منصوبے کو قابلِ قبول بنانے کے لیے امریکہ نے ترکیہ کی کمزور معیشت کے لیے بیس ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں، گرانٹس اور مالی مراعات کی پیشکش بھی رکھی۔لیکن یکم مارچ 2003 کو ترکیہ کی پارلیمنٹ نے تاریخی ووٹنگ کے ذریعے امریکہ کو یہ فوجی سہولیات فراہم کرنے کی قرارداد کو مسترد کر دیا۔

کنزر نے اس فیصلے کو جدید ترکیہ کی تاریخ کا وہ پہلا فیصلہ قرار دیا جہاں اس نے اپنے ایک انتہائی اہم سکیورٹی معاملے پر امریکہ کے سامنے کھل کر ’نا‘کہنے کی جرأت کی تھی۔

ایک ایسی حکومت کے لیے جس کو اقتدار سنبھالے محض چند ماہ ہوئے تھے، یہ ایک بے باک، جرأت مندانہ اور تاریخی لمحہ تھا۔اس سے بھی بڑھ کر، اس فیصلے نے اس تزویراتی سوچ اور نظریے کی بنیاد رکھ دی جو ایردوان کے پورے دورِ حکومت میں بتدریج مستحکم ہوتی چلی گئی: یعنی ترکیہ مغربی اتحاد کا حصہ اور رکن تو رہ سکتا ہے، لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ وہ مغرب کے ہر حکم اور مطالبے کے سامنے بغیر سوچے سمجھے سر جھکا دے۔اس فکری اور سفارتی نظریے کو بعد میں ’تزویراتی خودمختاری‘کا نام دیا گیا۔

بین الاقوامی میدان میں ایک خودمختار، باوقار اور بااثر عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے سے قبل ایردوان کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنے اندرونِ ملک عوام کو حقیقی معاشی خوشحالی اور خدمات کی فراہمی کر کے دکھائیں۔یہاں وزیر اعظم ایردوان نے اپنے استنبول کی بلدیاتی سیاست کے شاندار اور کامیاب تجربات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ان کی خوش قسمتی تھی کہ یورپی یونین کا رکن بننے کی ترکیہ کی تگ و دو کے باعث دنیا بھر سے سرمایہ کاروں نے یہاں سرمایہ کاری شروع کر دی، اور ملک میں سرمائے کی زبردست ریل پیل ہو گئی۔

اس سرمایہ کا استعمال کرتے ہوئے اناطولیہ کے وسیع و عریض خطوں میں جدید دورویہ موٹرویز اور کشادہ شاہراہوں کا جال بچھا دیا گیا، چھوٹے اضلاع اور صوبائی مراکز کو مرکزی ایکسپریس ویز سے جوڑ دیا گیا، اور ملک میں تاریخ کی پہلی جدید ہائی اسپیڈ ریلوے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔

استنبول کومارمرے میٹرو کا  تحفہ ملا، جو آبنائے باسفورس کے گہرے سمندر کی تہہ کے نیچے سے گزرنے والی زیرِ آب ریلوے سرنگ  سے گزر کر ایشیا اور یورپ کو ملاتی ہے۔ اس کے بعد ‘یوریشیا’ سڑک سرنگ تعمیر کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی، عالمی معیار کا وسیع و عریض استنبول ایئرپورٹ قائم کیا گیا جس نے ترکیہ کو دنیا کے عظیم ترین بین الاقوامی ایوی ایشن سنٹر میں تبدیل کر دیا۔

سالانہ فضائی مسافروں کی تعداہی تئیس کروڑ سالانہ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک بھر میں دورویہ اور محفوظ شاہراہوں کا نیٹ ورک تقریباً پانچ گنا اضافے کے ساتھ انتیس ہزار کلومیٹر سے زیادہ تک پھیل گیا۔

دودہائیوں میں بائیس سو کلومیٹر سے زیادہ طویل جدید ترین تیز رفتار ریلوے ٹریکس تعمیر کئے گئے ہیں۔ عوام اور ووٹروں کے لیے یہ محض اعداد و شمار یا کتابی معاشی اشاریے نہیں تھے۔

اناطولیہ کے ایک دور دراز قصبے کا تاجر اب چند گھنٹوں میں آرام دہ ٹرین یا شاہراہ کے ذریعے دارالحکومت انقرہ پہنچ سکتا تھا۔

ایک عام غریب خاندان کو سفر کے لیے سڑکوں پر پورا دن دھکے کھانے کے بجائے چند گھنٹوں میں سستی پرواز مل سکتی تھی۔ ایمبولینس کسی دور افتادہ دیہات سے مریض کو لے کر جدید ضلعی اسپتال تک چند ہی منٹوں میں پہنچ سکتی تھی۔

اگرچہ صحت کے شعبے میں ہونے والا انقلاب سڑکوں اور پلوں کی طرح بیرونی طور پر شاید اتنا پرشکوہ دکھائی نہ دیتا ہو، مگر سیاسی اور عوامی سطح پر یہ مواصلاتی ڈھانچے سے بھی کہیں زیادہ مؤثر اور اثر انگیز ثابت ہوا۔2003 سے حکومت نے ترکیہ میں ‘ہیلتھ ٹرانسفارمیشن پروگرام’ کا تاریخی آغاز کیا۔اس کے مطابق ہر 50ہزار کی آبادی پر ایک سپر اسپیشلٹی اسپتال اور صحت سے متعلق صنعتیں قائم کرنا تھا۔ اسی لیے جب 2020میں کورونا وائرس نے دستک دی، تو ترکیہ کے پاس 55ہزار آئی سی یو بیڈ تھے۔

پورے یورپ میں انتے بیڈ مہیا نہیں تھے، جس کی وجہ سے روز یورپ کے شہروں سے ایر ایمبولنس ترکیہ آتی تھیں۔

عالمی بینک نے تسلیم کیا کہ ترکیہ کی جانب سے تمام شہریوں کے لیے یکساں، مفت اور جامع ہیلتھ کیئر کی فراہمی کا یہ تیز رفتار اور انقلابی ماڈل دنیا کے کسی بھی ملک میں اپنی وسعت اور رفتار کے لحاظ سے کم ہی مثال رکھتا ہے۔

خاندانی معالج کے نظام کو گلی محلے تک وسعت دی گئی، اور جدید ترین سٹی اسپتالوں کے ذریعے اعلیٰ درجے کے علاج تک غریب ترین شہریوں کی رسائی کو ممکن بنا دیا گیا۔سرکاری اسپتال ایسے بنائے گئے کہ جنوبی ایشیاءکے پرائیوٹ پانچ ستارہ اسپتال ان کے سامنے شرما جائیں۔

تمام کمپنیوں و دفاتر کےلئے لازم کیا گیا کہ وہ اپنے ملازمین کو دن میں ایک بار کھانا مفت کھلائیں۔ معمر شہریوں کےلئے مفت شہری ٹرانسپورٹ اور روٹی مفت مہیا کرائی گئی۔عید کے تین روز اور قومی تہوارں کے موقع پر مفت ٹرانسپورٹ کی سہولیت رکھی گئی۔ ان اصلاحات کی سیاسی اہمیت بے پناہ تھی۔

ایک مراعات یافتہ، امیر یا اعلیٰ متوسط طبقے کے لیے سیاست کا محور شاید آئینی باریکیاں، لبرل ازم اور قانونی مباحث ہو سکتے ہیں، لیکن ایک محنت کش اور غریب خاندان کے لیے سیاست کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آیا اس کا بیمار بچہ بغیر قرض لیے اور بغیر گھر بار بیچے کسی اچھے اسپتال میں عزت کے ساتھ ڈاکٹر سے دوائی لے سکتا ہے یا نہیں۔

صحت کی سہولیات، تیز رفتار نقل و حمل اور بنیادی عوامی خدمات میں یہ وسیع بہتری ایردوان اور ترکیہ کے کروڑوں محنت کش ووٹروں کے درمیان ایک اٹوٹ اور جذباتی رشتے کی بنیاد بن گئی۔

سال 2023 میں  صدارتی و پارلیامانی انتخابات کی کوریج کرتے ہوئے مشرقی ترکیہ کے زلزلہ زدہ شہروں کا دورہ کرتے ہوئے جب میں عام ترک ووٹر سے بات کرتا تھا، تو وہ ایردوان کی پالیسیوں پر شدید تنقید اور شکوے کرتا تھا،مگر صحت و سوشل سیکورٹی کی سہولیت کے حوالے سے احسان مند بھی تھا۔ اس لیے شکوہ شکایات کے باوجود ایردوان کے ہی کے حق میں مہر لگانے کے حق میں تھا۔

میں نے دیکھا کہ عام ترک وزیر کی کارکردگی سے نالاں ہے، روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں پر غصے کا اظہار کر تا ہے یا مقامی بلدیاتی انتخابات میں آق پارٹی کو ہراتا بھی ہے، مگر  2002 سے پہلے کے وہ تاریک دن اور بوسیدہ اسپتالوں کی ذلت آمیز قطاریں یاد کرکے  اس کا دل  ایردوان کےلیے نرم ہوجاتا ہے۔

  معاشی میدان میں آنے والی تبدیلیوں کا پیمانہ بھی اتنا ہی زبردست اور حیران کن تھا۔ 2004 سے  2024 کے 20 سالہ عرصے کے دوران، ترکیہ کی برائے نام مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی تقریباً چار سو ارب ڈالر سے چھلانگ لگا کر ایک اعشاریہ تین ٹریلین یعنی تیرہ سو ارب ڈالر کے ہندسے تک جا پہنچی ہے۔ جس ایک امریکی ڈالر کے بدلے  2003 میں چھ لاکھ بیس ہزار سے ساڑھے چھ لاکھ تک ترک لیرا دینے پڑتے تھے، 2019 میں وہ ڈالر محض چار لیرا پر آ گیا تھا، اور بعد کے افراطِ زر کے دباؤ کے باوجود آج وہ چھیالیس لیرا پر مستحکم ہے۔

ترکیہ نے  2013 میں عالمی مالیاتی فنڈ کے تمام تر بقایا غیر ملکی قرضے ایک ایک پائی کر کے مکمل طور پر ادا کر کے خود کو اس کے چنگل سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر لیا، اور ملک نہ صرف جی ٹوئنٹی کا ایک بااثر اور فعال رکن بنا بلکہ عالمی مالیاتی و اقتصادی نظام میں ایک مضبوط آواز بن کر ابھرا ہے۔

ترکیہ کا روایتی، پرانا اور مقتدر معاشی اشرافیہ زیادہ تر استنبول، انطالیہ اور ازمیر میں مرکوز تھا اور وہ سیکولر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے ساتھ گہرے مفادات میں بندھا ہوا تھا۔

لیکن قیصری، قونیہ، غازی انتیپ، دینزلی اور دیگر روایتی شہروں نے ایک انتہائی پرعزم، محنتی اور باصلاحیت کاروباری اور صنعتی کلاس کو جنم دیا۔ یہ کاروباری لوگ اپنی ثقافت اور طرزِ زندگی میں قدامت پسند اور دین دار تھے، لیکن ان کی معاشی اور تجارتی نگاہیں عالمی منڈیوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔

ان کاروباری حلقوں کی یورپ میں گہری دلچسپی اس لیے نہیں تھی کہ وہ اپنی اسلامی شناخت چھوڑ کر ثقافتی طور پر یورپی بننا چاہتے تھے، بلکہ اس لیے تھی کہ یورپ ان کے لیے اپنی مصنوعات بیچنے کی ایک بہت بڑی اور منافع بخش منڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔

ان نئے ابھرتے ہوئے صنعتی اور مینوفیکچرنگ مراکز نے ایردوان اور ان کی جماعت کوکاروباری متوسط طبقہ کی حمایت فراہم کی، جس سے ترکیہ کی ماضی کی روایتی اسلامی تحریکیں ہمیشہ محروم رہی تھیں۔

ترکیہ کی سرحدوں سے باہر، ایردوان کے پورے منصوبے کو ایک سیکولر آبادی پر زبردستی قدامت پسند اسلام مسلط کرنے کے ایجنڈے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔حالانکہ زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔

یہ سچ ہے کہ مذہبی اور باحجاب شہریوں کو ریاستی اور عوامی اداروں میں اپنی مذہبی شناخت کو چھپائے بغیر اور اپنے عقیدے پر شرمندہ ہوئے بغیر سر اٹھا کر جینے اور کام کرنے کا بنیادی حق مل گیا، مگر جو ان علامتوں کو نہیں مانتے ہیں یا ساحل سمندر یا دیگر جگہوں پر برائے نام کپڑے پہنے ہوں، ان پر بھی کوئی قد غن نہیں ہے۔ نائٹ کلب ہو یا کیسینو یا شراب خانے، ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

اسٹیفن کنزر نے اپنی تحریروں میں معروف ترک صحافی فہمی کورو کی اہلیہ کی عبرت انگیز کہانی بیان کی ہے۔ امریکہ کے معروف تعلیمی ادارے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں وہ سر پر اسکارف پہن کر مکمل آزادی کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتی تھیں اور امتحانات کے دوران ان کے مذہبی اوقات کا احترام بھی کیا جاتا تھا۔

لیکن اسی خاتون کو خود ان کے اپنے وطن ترکیہ میں محض اسکارف پہننے کے جرم میں کسی بھی اسکول یا یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دینے سے روک دیا گیا تھا۔سابق صدر عبداللہ گل کی اہلیہ کو بھی یونیورسٹی کے امتحانات میں محض اسکارف کی وجہ سے داخلے سے روک دیا گیا تھا۔

ایردوان نے برسوں کی خاموش اور آئینی جدوجہد کے بعد ان تمام امتیازی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کردیا۔ان کے حامی ان اقدامات کو اسلامائزیشن کے بجائے حقیقی جمہوری اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی سے تعبیر کرتے ہیں۔ملک بھر میں تاریخی مساجد کی شاندار تزئین و آرائش کی گئی اور نئی خوبصورت مساجد تعمیر کی گئیں، لیکن کسی بھی شہری کو ان مساجد میں داخل ہونے یا نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔

امام حاطب اسکولوں کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، ان کے نصاب کو سائنسی و عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا اور ان کا دائرہ وسیع کیا گیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ روایتی سیکولر اسکول بھی پہلے کی طرح مکمل آزادی کے ساتھ چلتے رہے۔

خود ایردوان امام حاطب اسکول کے فارغ التحصیل ہیں اور انہوں نے اپنے تمام بچوں کو بھی انہی مدرسوں میں پڑھایا۔جیسے جیسے سیاست دانوں، اعلیٰ بیوروکریٹس، ڈاکٹرز، انجینئرز اور بااثر کاروباری خاندانوں کے بچے اور بچیاں ان امام حاطب اسکولوں میں داخل ہونے لگیں،وہ قومی دھارے اور مرکزی عوامی شناخت کا حصہ بنتے چلے گئے۔ان کا معیار اعلیٰ ہوتا گیا۔

اس اصلاحات کا معاشرتی اور نفسیاتی اثر انتہائی گہرا اور دیرپا تھا۔ترکیہ کے مذہبی اور قدامت پسند شہریوں میں احساس کمتری ختم ہوگیا اور ان کو احساس ہو گیا کہ جدید دور میں معاشی و علمی ترقی کرنے کے لیے انہیں اپنی اسلامی شناخت، اقدار اور دینی شعار کو قربان نہیں کرنا پڑے گا۔

اسی نوعیت کی ایک اور حیران کن اور تاریخی تبدیلی اس شعبے میں رونما ہوئی جو روایتی طور پر پرانی سیکولر اسٹیبلشمنٹ اور فوج کا سب سے مضبوط اور ناگزیر گڑھ مانا جاتا تھا۔دہائیوں تک ترک مسلح افواج اپنے بنیادی ہتھیاروں، طیاروں اور گولہ بارود کے لیے مکمل طور پر امریکہ اور مغربی یورپی ممالک کی محتاج اور ان کے اسلحے پر منحصر رہیں۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں ترکیہ اپنی کل دفاعی ضروریات کا بہ مشکل بیس فیصد حصہ مقامی طور پر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔  2024 تک یہ مقامی پیداواری شرح شاندار ترقی کے ساتھ 80 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔

دفاعی اور ایرو اسپیس مصنوعات کی برآمدات، جو  2002 میں محض 248 ملین ڈالر تھیں، سال 2024 میں زبردست اضافے کے ساتھ 7.1 ارب ڈالر تک جا پہنچیں اور سال 2025 میں اس نے دس ارب پچاس ملین ڈالر کی حد عبور کی۔ ساڑھے تین ہزار سے زیادہ جدیددفاعی کمپنیوں میں ایک لاکھ سے زائد اعلیٰ تربیت یافتہ ترک انجینئرز اور تکنیکی ماہرین روزگار پا رہے ہیں۔

ترکیہ آج دنیا بھر میں جدید مسلح ڈرونز اور بغیر پائلٹ کے جنگی طیاروں کا سب سے بڑا اور سب سے معتبر برآمد کنندہ بن چکا ہے۔ ملک اپنا پانچویں نسل کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ‘قاآن’کامیابی کے ساتھ تیار کر رہا ہے۔ مہموت اوزترک کے مطابق ان اقدامات سے ایردوان نے فوج میں خاصا اثر و رسوخ قائم کیا۔ کئی جرنیلوں نے کہا کہ جب فوج کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہیں، تو اس کو سیاست میں مداخلت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اپنی جدید تاریخ کے طویل عرصے تک انقرہ کی نظریں ہمہ وقت اور غیر متزلزل طور پر صرف مغرب، واشنگٹن اور برسلز کی جانب ہی لگی رہتی تھیں۔ آ ق پارٹی نے ابتدائی برسوں میں اس مغربی سمت کو ترک نہیں کیا۔ مگر اس دوران  ترکیہ نے اپنے سفارتی نقشے کو دنیا کے دیگر براعظموں تک وسعت دینا شروع کر دی۔

براعظم افریقہ، وسطی ایشیا کی برادر ترک ریاستیں، بلقان کا تاریخی خطہ اور مشرقِ وسطیٰ ترک سفارت کاری کے سب سے متحرک اور اہم ترین میدان بن گئے۔ بعد میں ترکیہ نے پورے براعظم ایشیا کے ساتھ اپنے تجارتی، سفارتی اور ثقافتی تعلقات کو نئی گہرائی دینے کے لیے اپنے تاریخی ‘ایشیا انیو’ منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا۔

ترکیہ کے پاس آج دنیا بھر میں 262 مکمل فعال سفارتی مشنز اور سفارت خانے موجود ہیں، جس کے نتیجے میں ترکیہ اب دنیا کا تیسرا سب سے بڑا سفارتی نیٹ ورک رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔اس نئی سفارتی حکمتِ عملی کی سب سے تابناک اور واضح مثال براعظم افریقہ ہے۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں پورے براعظم افریقہ میں ترکیہ کے پاس صرف بارہ سفارت خانے موجود تھے۔ آج یہ تعداد بڑھ کر 44 مکمل فعال سفارت خانوں تک جا پہنچی ہے۔

ترکیہ کے عالمی سفارتی و اخلاقی اثر و رسوخ کو قائم کرنے میں ترکش کوآپریشن اینڈکوآرڈینیشن ایجنسی یعنی ٹیکا  ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اس نے دنیا کے ایک سو ستر سے زائد ممالک میں تیس ہزار سے زیادہ فلاحی، تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اور سرگرمیاں کامیابی سے مکمل کی ہیں۔ترکیہ اپنی معیشت کے حجم کے تناسب کے لحاظ سے دنیا میں سب سے زیادہ انسانی اور ترقیاتی امداد دینے والے ممالک کی صفِ اول میں بار بار پہلے یا دوسرے نمبر پر شمار ہوتا رہا ہے۔

تاہم، آق پارٹی کی اس غیر معمولی پچیس سالہ شاندار کامیابی کی کوکھ میں ایک گہرا تضاد اور مضمر چیلنج بھی چھپا ہوا ہے۔اس جماعت کی جو سب سے بڑی تزویراتی اور سیاسی طاقت رہی ہے، وہی رفتہ رفتہ اس کی سب سے بڑی تنظیمی اور ساختی کمزوری بھی بن چکی ہے اور وہ ذات خود رجب طیب ایردوان ہیں۔

اس جماعت نے اپنے سفر کے دوران بے شمار باصلاحیت، مقبول اور قدآور رہنماؤں کو جنم دیا، جن میں عبداللہ گل، بلند ارنچ، احمد داؤد اوغلو، علی باباجان، بن علی یلدرم اور دیگر کئی نمایاں نام شامل تھے۔

ان میں سے کچھ رفقاء اختلافات کے باعث جماعت چھوڑ گئے، کچھ کو وقت کے ساتھ تنظیمی طور پر سائیڈ لائن کر دیا گیا، جبکہ بعض نے اپنی الگ سیاسی جماعتیں بنا لیں۔ لیکن ان تمام قدآور رہنماؤں میں سے کوئی ایک بھی عوام کے اندر اپنے بل بوتے پر وہ آزادانہ اور کرشماتی انتخابی سحر اور سیاسی اتھارٹی قائم نہ کر سکا جس کی مثال ایردوان کی ذات میں دکھائی دیتی ہے۔

پچیس سالہ دورِ اقتدار کے اس پورے تاریخی حساب کتاب کو صرف موٹرویز، شاندار اسپتالوں، ناقابلِ تسخیر ڈرونز اور پے در پے انتخابی فتوحات کی فہرست پر ہی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

جس جمہوری جدوجہد اور آئینی تبدیلی نے فوج کے غیر آئینی تسلط اور سیاسی سرپرستی کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اسی نے آج ترکیہ کے سامنے ایک نیا اور پیچیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے۔ کیا ترکیہ نے ماضی کے غیر منتخب فوجی جرنیلوں کے بے پناہ اختیارات سے نجات پا کر اب ان کی جگہ منتخب سویلین قیادت کو بے پناہ اور مرتکز اختیارات تو نہیں سونپ دیے ہیں؟

اسٹیفن کنزر نے برسوں پہلے اس ابھرتے ہوئے سنگین سیاسی تضاد کی نشاندہی کر دی تھی۔انہوں نے لکھا تھا کہ ترکیہ نے ایک ایسے بوسیدہ نظام سے تو کامیابی سے نجات حاصل کر لی جہاں کمزور، منقسم اور بدعنوان سیاسی دھڑوں کو خاکی وردی پوش جرنیل اپنی انگلیوں پر نچاتے تھے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک ایسے نئے ابھرتے ہوئے نظام سے بھی متنبہ کیا تھا جہاں تمام ریاستی اختیارات ایک ہی سیاسی جماعت اور ایک ہی مضبوط شخصیت کے گرد سمٹتے چلے جا رہے تھے۔

حالیہ برسوں میں عوام کو بے لگام افراطِ زر، ترک لیرا کی قدر میں مسلسل کمی اور روزمرہ زندگی کے ہوشربا اخراجات کے ایک تلخ اور اعصاب شکن معاشی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہ معاشی بحران اس لیے زیادہ تشویشناک اور سنگین ہے کیونکہ آق پارٹی کا ترکیہ کے عوام کی اکثریت کے ساتھ مضبوط اور فیصلہ کن رشتہ نظریاتی کے بجائے بے مثال انتظامی صلاحیت، گورننس اور مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رہی ہے۔

مارچ 2024 کے بلدیاتی انتخابات نے اس بدلتی ہوئی عوامی لہر اور معاشی اضطراب کی سب سے واضح اور سنجیدہ وارننگ دی تھی۔ملک کی تاریخ میں بائیس سال بعد پہلی بار روایتی حزبِ اختلاف کی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی یعنی سی ایچ پی قومی سطح پر بلدیاتی ووٹوں کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آ گئی۔ استنبول اور انقرہ میں اپوزیشن کے مئیر منتخب ہوگئی۔ گو کہ حال ہی میں اپوزیشن سی ایچ پی کے دو ٹکڑے ہوگئے ہیں، مگر معاشی صورت حال سے تنگ عوام اسکا دامن تھام سکتے ہیں اور وہ موثر اتحاد بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ سوال ہے کہ سویلین حقوق کی طویل لڑائیوں کے دوران عوام کی جو بے پایاں وفاداری اور عقیدت آق پارٹی کو حاصل ہوئی تھی، اس عظیم سیاسی ورثے کو ایردوان کے بعد کون سنبھالے گا؟وہ کون سا ایسا رہنما ہو گا جو بیک وقت اناطولیہ کے ایک چھوٹے دکاندار، استنبول کے جدید کاروباری بلڈر، بحیرہ اسود کے مذہبی قدامت پسند اور وسطی اناطولیہ کے سخت گیر قوم پرست ووٹر کے دل کو چھو سکے اور ان سب کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد رکھ سکے گا؟آق پارٹی کے پاس فی الحال ان بنیادی اور وجودی سوالات کا کوئی واضح اور حتمی جواب موجود نہیں ہے۔

اس تمام تر بحث کے باوجود، آج کا جدید ترکیہ اس بکھرے ہوئے اور لاچار ملک سے دور دور تک کوئی مشابہت نہیں رکھتا جو  2002 میں اس جماعت کو ورثے میں ملا تھا۔

یہ تمام تر تبدیلیاں کوئی سطحی، عارضی یا نمائشی تبدیلیاں نہیں ہیں۔ یہ درحقیقت جدید ترک ریاست کے وجود اور اس کے کردار کی ایک مکمل، ہمہ جہت اور تاریخی کایا پلٹ ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نظام کے سنگین اندرونی، جمہوری اور ادارہ جاتی نقصانات سے بھی آنکھیں چرانا ناممکن ہے۔

ایک چوتھائی صدی قبل، رجب طیب ایردوان نے اپنی قوم سے یہ تاریخی وعدہ کیا تھا کہ اب ترکیہ میں کبھی بھی کچھ پہلے جیسا نہیں رہے گا۔اور گزشتہ پچیس برسوں میں واقعی بہت کچھ یکسر بدل گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس نے ایک ایسی پائیدار، مستحکم اور بااصول سیاسی تحریک بھی تعمیر کر لی ہے جو کل کو ایردوان کے بعد بھی اپنی بقا، وحدت اور طاقت کو برقرار رکھ سکے؟

بلاشبہ یہ سوال اس پورے تاریخی دور کا سب سے کڑا، آخری اور فیصلہ کن امتحان ثابت ہو گا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ