اسلام آباد میں پاکستان کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی 2026-27 کی صدارت کے تحت قومی رابطہ کاروں کی کونسل کا پہلا اجلاس پیر کو منعقد ہوا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں ایس سی او کی سرگرمیوں اور تعاون سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کی صدارت کے دوران منعقد ہونے والی مختلف تقریبات کے پروگرام پر بھی غور کیا گیا۔
تین روزہ اجلاس میں ایس سی او کے 10 رکن ممالک کے نیشنل کوآرڈینیٹرز شرکت کریں گے، جو تنظیم کے اندر رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کے ذمہ دار ہیں۔
اجلاس میں پاکستان کی 2026-27 کی صدارت کے پروگرام کو حتمی شکل دینے اور آئندہ اجلاسوں و تقریبات کی تیاریوں پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان نے رواں ماہ ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی گردشی صدارت سنبھالی ہے۔ اسلام آباد نے کہا ہے کہ اپنی صدارت کے دوران علاقائی رابطہ کاری، جدت، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
وزارت خارجہ نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ پاکستان ان ترجیحات کو آگے بڑھانے اور ایس سی او کے اندر تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام رکن ممالک اور ایس سی او سیکریٹریٹ کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔
وزارت کے مطابق پاکستان کا مقصد رکن ممالک کے ’مشترکہ وژن‘ کو ’عملی اور باہمی مفید اقدامات‘ میں تبدیل کرنا ہے۔
کونسل آف نیشنل کوآرڈینیٹرز کا اجلاس 28 سے 30 ستمبر تک اسلام آباد میں جاری رہے گا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان کے لیے ایس سی او کے نیشنل کوآرڈینیٹر کریں گے، جبکہ تنظیم کے سیکریٹریٹ کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔
ایس سی او یوریشین سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کی تنظیم ہے، جو 2001 میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان نے قائم کی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان اور انڈیا 2017 میں مکمل رکن بنے، ایران نے 2023 میں شمولیت اختیار کی جبکہ بیلاروس 2024 میں تنظیم کا 10واں رکن بن گیا۔
تنظیم کے مطابق اس کے مقاصد میں علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا اور تجارت، معیشت، توانائی، نقل و حمل، ٹیکنالوجی اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔
کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ ایس سی او کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے، جس کا سالانہ اجلاس تنظیم کے اہم معاملات پر فیصلے اور ترجیحات کے تعین کے لیے ہوتا ہے۔
کونسل آف نیشنل کوآرڈینیٹرز رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کرتی ہے اور ایس سی او کے اعلیٰ سطحی اداروں کے اجلاسوں کی تیاری میں معاونت فراہم کرتی ہے۔
پاکستان نے یکم ستمبر کو بشکیک میں ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران 2026-27 کی صدارت کرغزستان سے سنبھالی تھی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی صدارت کے لیے ’تصور کو عملی اقدام میں تبدیل کرنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘ کا عنوان پیش کیا تھا۔
صدارت کے تحت اسلام آباد آئندہ ایک سال کے دوران ایس سی او کے پروگرام کی نگرانی کرے گا اور اگست 2027 میں کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے آئندہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
پاکستان اس سے قبل ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کی صدارت بھی کر چکا ہے اور اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں وزرائے اعظم کے اجلاس کی میزبانی کی تھی۔
وزارت خارجہ نے رواں ہفتے ہونے والے اجلاس کو پاکستان کی صدارت کے دوران ’اہم ابتدائی سرگرمی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئندہ سال ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں اور دیگر سرگرمیوں کی تیاری میں معاون ثابت ہوگا۔

