راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے عسکری اپارٹمنٹمس میں شادی شدہ خاتون کو پراسرار حالات میں قتل، کر دیا گیا جس کی تشدد زدہ نعش ہاتھ کمر پر بندھے اور گردن میں تار کا پھندا لگی حالت میں اپارٹمنٹ کے کمرے کے باتھ روم کے شاور سے آدھی لٹکی ہوئی ملی۔
پولیس نے مقتولہ کے بھائی کی درخواست پر خاوند ڈاکٹر فیصل امام ،سسر اور گھریلو ملازم کے خلاف مقدمہ درج کرکے خاوند اور ملازم کو تحویل میں لے لیا۔
پولیس کی مطابق مقتولہ کے بھائی فہد جاوید نے بتایا کہ میرے والدین ضعیف اور کافی عرصے سے بیمار ہیں میں ایک بھائی اور میری دو بہنیں ہیں، میری بڑی بہن نادیہ کینڈا میں مقیم ہے جبکہ اس سے چھوٹی بہن 45 سالہ حنا جاوید کی شادی نو مبر 2025 میں فیصل اصغر سے ہوئی تھی، اصغر فیاض میری ہمشیرہ حنا جاوید کے سسر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کال آئی کہ ایمر جنسی ہے فوراً آجائیں جس پر میں اپنے عزیزوں کے ہمراہ وہاں پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ میری بہن حنا جاوید دونوں ہاتھ کمر پر بندھی حالت کے منہ پر کپڑے دے رکھا گیا تھا اور گلے میں تار سے پھندا پڑا تھا، کمرے کے باتھ روم کے شاور سے بندھی مردہ حالت میں کچھ زمین پر جھکی حالت میں پڑی تھی۔
بھائی نے بتایا کہ اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا اور نیچے ہاتھ روم کے فرش پر بھی خون موجود تھا، میرا قوی یقین ہے کہ میری بہن کو اس کے خاوند فیصل اصغر نے اپنے ملازم ذیشان ارشد اور اپنے والد اصغر علی فیاض کے ساتھ مل کر جائے وقوعہ پر میری بہن حنا جاوید کو انتہائی بے دردی اور بہیمانہ تشدد کرکے اور اذیتیں دے کر قتل کیا ہے، مقتولہ حنا جاوید کے منہ سے جھاگ اور خون بہہ رہا تھا جس سے شبہ ہے کہ اسے کوئی زہریلی چیز بھی دی گئی تھی۔
وجہ عناد یہ ہے کہ ہمشیرہ کا خاوند فیصل اصغر امام آئے روز حنا جاوید کو نہ صرف تنگ کرتا تھا بلکہ سخت از بیتیں بھی دیتا تھا اور مار پیٹ کرتا تھا ملزم فیصل اصغر امام اس سے قبل اپنی پہلی بیوی مسماۃ ارم کو بھی از بیتیں دیتا تھا اور اس نے تنگ آکر طلاق لے لی تھی۔
فیصل اصغر امام نے انتہائی درندگی سے ہماری معصوم ہمشیرہ حنا جاوید کا قتل کیا ہے، قاتل نے قتل کو چھانے اور خفیہ رکھنے کیلئے رات کی تاریکی کا انتہائی چالاکی سے فایدہ اٹھایا ہے۔
فیصل اصغر امام اسکے والد اصغر علی فیاض اور انکے ملازم ذیشان کو گرفتار کر کے سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تا کہ ہمیں انصاف مل سکے اور ان سے آئندہ کسی اور کی معصوم جان بچائی جاسکے، ان ملزمان کے علاوہ دیگر نامعلوم اشخاص بھی ہو سکتے ہیں۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مقتولہ کے خاوند ڈاکٹر فیصل اور اسکے ملازم کو تحویل میں لیکر تحقیقات شروع کردیں، پولیس حکام کا کہناتھا کہ واردات کے حوالے سے مقتولہ کے سسر نے اطلاع دی کہ گھر میں چور گھس آئے ہیں جب موقع پر پہنچنے تو خاتون کی نعش ہاتھ کمر پر بندھی اور گردن میں تار پڑی ہوئی باتھ روم کے شاور سے بندھی ہوئی ایسی حالت میں ملی کہ گھٹنے زمین کو چھو رھے تھے۔
Source link

