اے آئی نے آسٹریلوی شخص کو ملازمت کا کیس جتوا دیا

397851 353866377


آسٹریلیا کے فیئر ورک کمیشن نے گذشتہ ہفتے فیصلہ دیا ہے کہ میکوری یونیورسٹی کے کمپیوٹنگ کے استاد گریگوری بیکر کو مستقل، جز وقتی ملازم تصور کیا جانا چاہیے۔ اس سے قبل یونیورسٹی نے انہیں عارضی ملازمت سے مستقل جز وقتی ملازمت میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اس فیصلے کو فوری طور پر ایک ’اہم تاریخی فیصلہ‘ قرار دیا گیا کیونکہ یہ 2024 میں لیبر حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ’ملازم کے انتخاب کا راستہ‘ (Employee Choice Pathway) اصلاحات کا پہلا عملی امتحان تھا۔

تاہم اس فیصلے نے ایک اور وجہ سے بھی توجہ حاصل کی۔ بیکر نے ٹریبونل میں اپنا مقدمہ خود پیش کیا اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تربیت یافتہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایجنٹس کی مدد سے مقدمہ جیتا۔ اس کامیابی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا اے آئی وکلا کی جگہ لے سکتی ہے؟

لیکن غور سے دیکھا جائے تو بیکر کا مقدمہ اے آئی کی جانب سے وکلا کی جگہ لینے کا ثبوت کم اور اس بات کی طاقتور مثال زیادہ ہے کہ ایک انتہائی ماہر صارف اے آئی ٹولز کو مؤثر انداز میں استعمال کرکے بہترین نتائج حاصل کر سکتا ہے۔

درخواست مسترد

آسٹریلین فنانشل ریویو سے گفتگو کرتے ہوئے بیکر نے بتایا کہ دراصل ایک اے آئی ٹول نے سب سے پہلے انہیں اس امکان کی نشاندہی کی تھی کہ وہ اپنی عارضی ملازمت کو مستقل جز وقتی ملازمت میں تبدیل کروا سکتے ہیں۔

وہ 2023 سے 2025 تک مسلسل سمسٹرز میں میکوری یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس پڑھاتے رہے۔ نومبر 2025 میں انہوں نے یونیورسٹی کو مطلوبہ نوٹس دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا کام اب عارضی ملازمت کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔

یونیورسٹی نے ان کی درخواست قبول نہیں کی، جس کے بعد بیکر نے دسمبر 2025 میں بغیر کسی وکیل کے فیئر ورک کمیشن میں تنازع دائر کیا۔ فریقین کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے اور معاملہ 12 مئی کو ثالثی کے لیے بھیج دیا گیا۔ گذشتہ بدھ کو اس کا فیصلہ سنایا گیا۔

اے آئی کا ماہر استعمال

بیکر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اوپن اے آئی کی بامعاوضہ سروس چیٹ جی پی ٹی پرو سمیت متعدد بامعاوضہ اے آئی ایجنٹس استعمال کیے۔ اس ’ٹیم‘ نے انہیں اپنا مقدمہ تیار کرنے، حوالہ جات کی مزید جانچ کرنے اور یونیورسٹی کی جانب سے ممکنہ جوابی دلائل کا اندازہ لگانے میں مدد دی۔

ان کی کامیابی کو تاریخی قرار دیا گیا ہے۔ آسٹریلین فنانشل ریویو نے اسے قانونی میدان میں کسی ایسے شخص کی جانب سے ٹیکنالوجی کے کامیاب استعمال کی پہلی معلوم مثال قرار دیا، جس نے اپنا مقدمہ خود پیش کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اس مقدمے میں چند ایسی خصوصیات ہیں جو اسے عام مقدمات سے مختلف بناتی ہیں۔ بیکر کا آئی ٹی پس منظر، اے آئی ایجنٹس کو چلانے کی مہارت اور اپنے مقدمے کے لیے ان کے استعمال کو بہتر بنانے کی صلاحیت، قانونی معاملات میں اے آئی کے استعمال کی غیر معمولی سطح کی مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔

فیئر ورک کمیشن کے فیصلے میں شامل تفصیلات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیکر نے اپنے قانونی دلائل کو ایک مخصوص یونٹ میں اپنی تدریس تک محدود رکھا تھا۔

قانونی معاملات میں اے آئی کا کم ماہر استعمال اکثر ایسے دعوؤں کا باعث بنتا ہے، جن میں ہر ممکن دلیل شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، چاہے وہ کمزور، مبالغہ آمیز یا بے بنیاد ہی کیوں نہ ہوں۔

بیکر کا کیس بھی محدود نوعیت کا تھا اور اس میں عارضی ملازمت کو مستقل کرنے سے متعلق ایک ایسے قانون کا اطلاق زیرِ بحث تھا، جس کا اس سے پہلے کسی کیس میں فیصلہ نہیں ہوا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ فیئر ورک کمیشن عدالت نہیں بلکہ ایک ایسا ٹریبونل ہے، جس کا طریقہ کار صارف دوست بنایا گیا ہے تاکہ کارکن بغیر وکیل کے بھی اپنے دعوے پیش کر سکیں۔

اے آئی کا کم مثبت استعمال

دوسری جانب قانونی کارروائیوں میں جنریٹو اے آئی کا استعمال کم خوش آئند وجوہات کی بنا پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

اس میں زیادہ تر توجہ اے آئی کی غلطیوں، فرضی معلومات اور ’اے آئی سلَپ‘ سے ہونے والے نقصانات اور اس سوال پر مرکوز ہے کہ عدالتوں اور ٹریبونلز کو ان مسائل سے کیسے نمٹنا چاہیے۔

اے آئی نے بعض فریقین کے لیے مقدمہ تیار کرنا آسان بنا کر قانونی رسائی کی روایتی رکاوٹیں کم کر دی ہیں۔ تاہم مقدمات کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ان کے دلائل کی درستگی اور معیار میں کمی آ رہی ہے، جس سے تنازعات کو حتمی نتیجے تک پہنچانا مشکل ہو رہا ہے۔

عدالتیں اور ٹریبونلز بھی مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ صرف فیئر ورک کمیشن میں ہی تین سال کے دوران کام کا بوجھ مبینہ طور پر 70  فیصد بڑھ چکا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ نئے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بعض بیرون ملک عدالتوں میں فریقین اور وکلا ڈیجیٹل دستاویزات میں ایسے مخصوص ہدایات یا مواد شامل کر رہے ہیں جنہیں ’پرامپٹ انجیکشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بعض عدالتوں میں دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہونے والے اے آئی نظام کو متاثر کرنا یا اس سے مختلف نتیجہ حاصل کرنا ہے۔

ایک بڑا موقع

بیکر کی مثال ایک اہم بات سامنے لاتی ہے: مناسب طریقے سے استعمال کیے جانے پر اے آئی ٹولز محدود نوعیت کے قانونی تنازعات اور ڈیجیٹل مہارت رکھنے والے افراد کو کم لاگت میں کامیاب حل تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ انصاف تک رسائی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ آسٹریلیا میں قانونی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد اور قانونی معاونت کے لیے دستیاب محدود فنڈنگ کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔

معاشرے کی بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے جو ’مِسنگ مڈل‘ میں آتے ہیں؛ یعنی وہ نجی قانونی معاونت کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے لیکن ان کی آمدن اتنی زیادہ ہے کہ وہ مفت قانونی امداد کے لیے اہل نہیں ہوتے۔

اے آئی ٹولز ایسے افراد کی مدد کر سکتے ہیں، جن میں قانونی معاملات کو سمجھنے کی مناسب صلاحیت ہو اور جن کے مسائل بیکر کے مقدمے کی طرح ان حلوں کے لیے موزوں ہوں جو اے آئی فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم ایسے معاملات کی تعداد محدود ہے۔

مستقبل کا رخ کیا ہوگا؟

توقع ہے کہ عدالتوں اور ٹریبونلز میں مقدمات دائر کرنے اور اپنے مقدمات کی خود پیروی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا اور یہ رجحان فیئر ورک کمیشن سے آگے بھی پھیلے گا۔

اگرچہ کچھ بے بنیاد مقدمات بھی سامنے آئیں گے، لیکن مقدمات کی تعداد میں یہ اضافہ اس روایتی رکاوٹ کے دور ہونے کا فطری نتیجہ بھی ہے، جو لوگوں کو انصاف کے رسمی اداروں تک رسائی سے روکتی تھی، یعنی مقدمہ شروع کرنے کے لیے نظام انصاف کے دروازے تک پہنچنا۔

بڑا سوال بدستور موجود ہے: انصاف تک رسائی بہتر بنانے کی اے آئی کی صلاحیت سے سب سے زیادہ فائدہ کون اٹھائے گا اور کون اب بھی اپنے بنیادی قانونی مسائل کے حل کے لیے مشکلات کا سامنا کرتا رہے گا؟

عدالتوں اور ٹریبونلز کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو سنبھالنے اور انصاف کی فراہمی کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں جبکہ انصاف تک رسائی بڑھانے کے اس موقع کو بھی ضائع نہ ہونے دیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ