
(ویب ڈیسک )ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا ایران کے اثاثوں کو نشانہ بنائے گا تو ایران خطے میں موجود امریکی تیل و گیس کمپنیوں کو نشانہ بنائے گا۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ ایران پہلے ہی اپنی جوابی صلاحیت ثابت کرچکا ہے، امریکی فوجی اڈوں کو دیکھ لیں جواب قابل استعمال نہیں رہے۔
واضح رہے امریکی وزیرجنگ نےکہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی جنگی جہازوں پرحملےکیے تو ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:محلے کی باتوں اور چغلیوں سے کروڑوں کی کمائی! آنٹی نے 2 گھر بھی خرید لیے
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ کر دی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور جنوبی کوریا کے تعلقات 64 سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں، جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی عوام اس وقت امریکی جارحیت کے خلاف دفاع میں مصروف ہیں، خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہو گی، آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں میں کسی بھی ملک کی شرکت قابل قبول نہیں۔

