چینی صدر شی جن پنگ کے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان کے دورے سے قبل دہلی میں تبتی کمیونٹی نے چین کی تبت پالیسی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے تبت پر چین کے قبضے، مذہبی آزادی اور ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے برکس رہنماؤں سے اس معاملے پر آواز اٹھانے کی اپیل کی۔
11 ستمبر 2026 کو دہلی میں چینی صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورہ کے خلاف احتجاجی مارچ نکالتے ہوئے تبتی کمیونٹی کے ارکان۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:چینی صدر شی جن پنگ کے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان کے دورے سے قبل دہلی میں تبتی کمیونٹی نے جمعہ (11 ستمبر) کو احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے تبت میں چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور بیجنگ کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
قابل ذکر ہے کہ جمعہ کی صبح طلبہ کارکنوں کے ایک گروپ نے برکس سربراہی اجلاس کے مرکزی مقام بھارت منڈپم کے پاس روایتی تبتی جھنڈے لہرائے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں’شی جن پنگ = نسل کشی‘اور ’تبت ماحولیاتی تباہی کا سامنا کر رہا ہے‘ جیسے پیغامات والے پوسٹر بھی تھے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، بھارت منڈپم کے پاس چین مخالف نعرے لگانے کے معاملے میں پولیس نے پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔
اس احتجاج کا اہتمام کرنے والی تنظیم اسٹوڈنٹس فار اے فری تبت (انڈیا) کی قومی ڈائریکٹر تنزین پاسنگ نے اخبار سے کہا کہ وہ برکس رہنماؤں سے تبت پر چین کے ’غیر قانونی قبضے‘ کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کرتے ہیں۔
پاسنگ نے کہا کہ تبت پر چین کے کنٹرول کی وجہ سے بیجنگ ایشیا کے بڑے دریائی نظام پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تبت میں منظم انداز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور چین کی سرحد پر جارحیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی دوران، شی جن پنگ کے ہندوستان دورہ کے خلاف جمعہ کی صبح دہلی کے مجنوں کا ٹیلہ علاقے میں بھی بڑی تعداد میں تبتی لوگوں نے احتجاجی مارچ نکالا۔
مارچ کی قیادت کرنے والی تبتی یوتھ کانگریس نے کہا کہ تبت آج بھی ایک ’زندہ سوال‘ ہے، جس کے اثرات انسانی حقوق، مذہبی آزادی، ماحولیاتی تحفظ، آبی سلامتی، ہندوستان کی قومی سلامتی اور ایشیا کے مستقبل کے استحکام پر پڑتے ہیں۔
تنظیم نے چین کے اس نئے ’نسلی اتحاد اور ترقی کے فروغ سے متعلق قانون‘پر بھی تنقید کی، جو تقریباً دو ماہ قبل نافذ کیا گیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس قانون کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ یہ اپنے نام کے برعکس کام کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق، تنوع کو تسلیم کرنے کے بجائے یہ قانون اویغور، تبتی اور منگول جیسے نسلی گروہوں کو ہان چینی ثقافت کے غلبہ والے، ریاست کی جانب سے متعین کردہ واحد قومی شناخت اپنانے کی طرف دھکیل سکتا ہے ۔
ایمنسٹی نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ نیا قانون اختلاف رائے رکھنے والوں اور ناقدین کے خلاف چین کی سرحدوں سے باہر ہونے والے جبر کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
قانون کے نفاذ کے ایک دن بعد تبتی پناہ گزین لوبگا رنگجن نے احتجاج کرتے ہوئے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے سامنے خود سوزی کر لی تھی۔ اس کے بعد دہلی میں سینکڑوں تبتی افراد نے نئے قانون کے خلاف احتجاج اور رنگجن کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اپنے سر منڈوائے اور دعائیں کیں۔
معلوم ہو کہ ہندوستان میں تبتی پناہ گزینوں کی ایک بڑی آبادی رہتی ہے۔ 1959 کی ناکام تبتی بغاوت کے بعد ہندوستان آنے والے دلائی لاما ریاست ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں مقیم ہیں۔ جلاوطنی میں کام کرنے والی مرکزی تبتی انتظامیہ بھی دھرم شالہ سے ہی چلائی جاتی ہے۔
غور طلب ہے کہ شی جن پنگ سنیچر کوبرکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان پہنچ چکے ہیں اور دہلی میں تقریباً ایک دن سے بھی کم وقت قیام کریں گے۔ یہ گزشتہ سات برسوں میں ان کا ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جون 2020 میں وادی گلوان میں ہونے والی مہلک فوجی جھڑپ کے بعد ہندوستان اور چین کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم، 2024 کے اختتام سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری کا عمل شروع ہوا ہے۔

