سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا ہے کہ رواں ہفتے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران 18 عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کیا گیا ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب نے رواں ہفتے صوبے کے مختلف اضلاع میں 117 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 18 عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹرز، اسلحہ، ممنوعہ لٹریچر، موبائل فونز اور نقدی برآمد کی گئی ہے۔
ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق یہ ’کارروائیاں صوبے میں دہشت گردی کے ممکنہ واقعات کی روک تھام اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کی گئیں۔‘
ترجمان نے بتایا کہ آپریشنز کے دوران 117 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
ترجمان کے مطابق گرفتار افراد میں ’حسن عباس شاہ، محمد حنیف، سمیع اللہ عرف طالب جان، محمد حسنین، حافظ محمد عبداللطیف، عطاء اللہ، فیض اللہ، محمد شہزاد عرف پاما، محمد بلال، محمد انس، طاہر، وقار احمد، محمد احسن، محمد فرمان، محمد نعمان، عمر فاروق، عبدالوہاب اور شوکت علی شامل ہیں۔‘
ان کے مطابق گرفتار عسکریت پسندوں کا تعلق فیصل آباد، سیالکوٹ، سرگودھا، ساہیوال، حافظ آباد، گوجرانوالہ، بھکر، لاہور اور ملتان سے ہے، جبکہ ان کے مختلف کالعدم تنظیموں سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ’گرفتار افراد کے قبضے سے 3,185 گرام دھماکہ خیز مواد، آٹھ ڈیٹونیٹر، 13.1 فٹ سیفٹی فیوز، 4.5 فٹ پرائما کارڈ اور چار پستول برآمد ہوئے۔‘
ترجمان نے برآمد ہونے والے دیگر سامان کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا، ’گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے 21 گولیوں سمیت چار پستول، کالعدم مواد پر مبنی 13 کتابیں، 23 ممنوع رسالے، 65 پمفلٹس، 84 اسٹیکرز، سات موبائل فونز اور 42 ہزار 740 روپے نقدی برآمد کیے گئے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان کے بقول گرفتار عسکریت پسند دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں ملوث تھے، جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
سی ٹی ڈی نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پنجاب بھر میں مقامی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے 3,357 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق ’ان کارروائیوں کے دوران ایک لاکھ 21 ہزار افراد کو چیک کیا گیا، 274 افراد کو گرفتار کیا گیا، 263 مقدمات درج ہوئے جبکہ 244 افراد سے مختلف نوعیت کی برآمدگیاں کی گئیں۔‘
پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ سکیورٹی کے لیے ڈرونز کے استعمال کی روک تھام کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع میں اینٹی ڈرون یونٹس اور جدید اینٹی ڈرون نظام قائم کیے گئے ہیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گزشتہ ہفتے لاہور میں پولیس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو افراد، ریحان بٹ اور ان کے والد فیاض بٹ، بادامی باغ اور نواں کوٹ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔ پولیس کے مطابق ان واقعات میں تین اہلکار جان سے گئے اور دو زخمی ہوئے، جبکہ دونوں افراد بعد میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

