چمپت رائے کے ’خط‘ میں مندر کی تعمیراتی کمیٹی کے سربراہ نریپیندر مشرا کی منتخب کردہ کمپنیوں کے نام

Champat Rai Misra 1200x600 1


چمپت رائے کے خط میں اشارہ دیا گیا ہے کہ مندر کی تعمیر سے متعلق فیصلوں میں وزیراعظم نریندر مودی کے سابق مشیر اور ٹرسٹ کی تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین رہے نریپیندر مشرا کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے مشرا کےبعض فیصلوں، خصوصی طور پر ملازمین کے انتخاب کے حوالے سے بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ خط میں لگائے گئے الزامات سے اشارہ ملتا ہے کہ 2020 سے مندر کی تعمیر سے متعلق فیصلے لینے میں مشرا کا نمایاں کردار رہا ہے۔

Champat Rai Misra 1200x600 1

نریپیندر مشرا (بائیں) اور چمپت رائے، پس منظر میں ایودھیا رام مندر کا احاطہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی، السٹریشن: دی وائر)

نئی دہلی: ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے نے نو صفحات پر مشتمل ایک خط میں وزیراعظم نریندر مودی کے سابق مشیر اور ٹرسٹ کی تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین رہے نریپیندر مشرا پر متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔

دی وائر نے اس خط کی کاپی دیکھی ہے۔ یہ خط نہ تو کسی لیٹرہیڈ پر ہے اور نہ ہی اس پر رائے کے دستخط ہیں۔ خط کا آغاز ’جئے شری رام‘ سے ہوتا ہے اور اس کا عنوان ہے- ’شری رام جنم بھومی مندر کے بارے میں جاننے لائق چند باتیں۔‘

خط میں رائے نے اشارہ کیا ہے کہ مندر کی تعمیر سے متعلق فیصلوں میں مشرا کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے سابق بیوروکریٹ کی جانب سے کیے گئے بعض فیصلوں، بالخصوص ملازمین کے انتخاب کے حوالے سے بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

رائے نے جون میں ’اخلاقی بنیاد‘ پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یہ استعفیٰ اس وقت ہوا جب شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ میں چڑھاوے کی رقم گننے کے لیے مقرر کیے گئے آٹھ ملازمین کو مندر کے چندے میں مبینہ خرد برد کے سلسلے میں درج ایف آئی آر کے بعد اتر پردیش پولیس نے گرفتار کیا۔

جیسا کہ دی وائر نے اپنی دو حصوں پر مشتمل رپورٹ میں بتایا تھا کہ فروری 2020 میں تشکیل کے بعد سے ہی رام مندر ٹرسٹ پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) یا وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) سے وابستہ افراد کا کنٹرول رہا ہے۔

نوے کی دہائی کی رام جنم بھومی تحریک میں شامل وی ایچ پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں، یعنی کارسیوکوں، کو بتدریج کنارے کر دیا گیا اور ٹرسٹ میں انہیں کوئی جگہ نہیں دی گئی۔

دی وائر کو یہ بھی پتہ چلا تھا کہ مندر میں چڑھاوے کی رقم میں خرد برد کے معاملے میں وہسل بلور رہے ٹرسٹ کے سابق اکاؤنٹنٹ مہپال سنگھ نے 2022 میں مندر میں ’سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے ہونے والی بڑے پیمانے کی بدعنوانی‘ کا پتہ لگایا تھا۔

رائے کا 18 اگست کا یہ نیا خط رام مندر کی تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں 1528 میں مغل بادشاہ بابر کے دور حکومت سے لے کر 1949 تک کے واقعات کا ذکر ہے، جب مبینہ طور پر ہندو مہاسبھا کے کارکنوں نے بابری مسجد کے اندر مورتیاں رکھ دی تھیں۔

دی وائر نے رائے سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے فون کا جواب نہیں دیا۔

وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری اور ترجمان سریندر جین سے رابطہ کرنے پر انہوں نے دی وائر سے کہا، ’ہمیں نہیں معلوم کہ یہ خط مجاز ہے یا نہیں۔‘ انہوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

تاہم، ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ خط رائے نے ہی لکھا ہے۔ حال ہی میں سامنے آuے نو صفحات کے اس خط پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’اخبار نے رائے سے رابطہ کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے یہ خط لکھا ہے۔‘

مودی کے سابق مشیر پر الزام

خط میں لگائے گئے الزامات سے اشارہ ملتا ہے کہ 2020 سے مندر کی تعمیر سے متعلق فیصلوں میں نریپیندر مشرا کا اہم کردار تھا۔ ان میں شامل ہیں؛

مندر کی تعمیر کے لیے کمپنیوں کا انتخاب

رائے کے خط کے مطابق، نریپیندر مشرا کے مشورے پر لارسن اینڈ ٹوبرو (ایل اینڈ ٹی) کو مندر کی تعمیر کا کام سونپا گیا۔ خط کے مطابق، اسی سطح کی ایک تنظیم کو پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پر منتخب کیا جانا تھا اور اس کے لیے ٹاٹا کنسلٹنگ انجینئرز کو منتخب کیا گیا۔

تعمیر کے لیے نوئیڈا کی کمپنی کا انتخاب

احمد آباد کے مندر کے معمار چندرکانت بھائی سوم پورا، جنہیں اشوک سنگھل نے 1986 میں منتخب کیا تھا، مندر کی تعمیر سے وابستہ رہے۔ وہیں، دیگر عمارتوں کی تعمیر کے لیے مشرا نے نوئیڈا کی ’ڈیزائن ایسوسی ایٹس‘ نامی کمپنی کو منتخب کیا۔ اس کمپنی کی قیادت جئے کٹیکر کرتے ہیں۔

ڈیزائن ایسوسی ایٹس انک نوئیڈا میں واقع ایک کمپنی ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق، اس کا آغاز 1998 میں ہوا تھا اور وقت کے ساتھ یہ رہائشی، تجارتی اور ادارہ جاتی منصوبوں کے شعبے میں کام کرنے والی ایک کثیرجہتی کمپنی بن گئی۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے ایک اور صفحے پر ایودھیا کے ایک خصوصی منصوبے کا بھی ذکر ہے، جسے ’ماسٹر پلاننگ فار شری رام جنم بھومی کمپلیکس‘ کہا گیا ہے۔

اس منصوبے کے لیے صارف/کلائنٹ کے طور پر شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کا نام دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق، 1,67,360 مربع میٹر رقبے میں تعمیر کے لیے منصوبے کی لاگت 1,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

اس تعمیراتی منصوبے میں 14 عمارتوں کے احاطے شامل تھے۔ ان میں انٹیگریٹڈ ٹیمپل کمپلیکس، تیرتھ یاتری مینجمنٹ سسٹم اور درشن کورٹ گیلری سمیت دیگر ڈھانچے شامل  ہیں۔

دی وائر نے اس معاملے میں کمپنی کا مؤقف جاننے کے لیے اس کے نمائندے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ ویب سائٹ پر دیے گئے نمبر پر فون کیا گیا، لیکن وہ کام نہیں کر رہا تھا۔ کمپنی کے ای میل پر رائے کے حالیہ خط اور مشرا کے ساتھ کمپنی کے ممکنہ تعلقات کے حوالے سے سوال بھیجے گئے ہیں۔ جواب ملنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

کمپنی کے دیگر منصوبوں میں لکھنؤ میں نیا اتر پردیش سکریٹریٹ، ممبئی میں چھترپتی شیواجی مہاراج میموریل، چمولی میں نرسنگھ مندر کی تعمیر نو اور نوئیڈا میں راشٹریہ دلت پریرنا استھل شامل ہیں۔

تعمیراتی کمیٹی کے ارکان کا انتخاب

رائے کے خط میں مشرا کی جانب سے تعمیراتی کمیٹی میں شامل کیے گئے بعض ارکان پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ رائے نے لکھا ہے،’نریپیندر جی نے اپنی پسند سے کچھ ایسے لوگوں کو شامل کیا، جو ان کی مدد کر سکتے تھے۔ ان میں سے ایک شخص گزشتہ چھ برسوں میں صرف دو مرتبہ ایودھیا آیا۔‘

خط میں تعمیراتی کمیٹی کے ایک اور رکن انوپ متل کا بھی نام ہے۔ متل نیشنل بلڈنگز کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ مشرا کے ساتھ کمیٹی کے ماہانہ اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے اور بعض اہم فیصلوں میں ان کا کردار تھا۔

رائے کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر مشرا نے اس خط کو ’فرضی‘ قرار دیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق، انہوں نے کہا: ’سب سے پہلے، کون سا خط؟‘

رائے کی جانب سے لکھے گئے ایک اور خط کا ذکر

رائے کی جانب سے مبینہ طور پر لکھے گئے 21 صفحات کے ایک اور خط کا بھی میڈیا میں ذکر ہے۔ اس خط پر بھی رائے کے دستخط نہیں ہیں اور آخر میں ’چمپت رائے، وشو ہندو پریشد، دہلی‘ لکھا ہوا ہے۔

نو صفحات والے خط کے برعکس، ’شری رام جنم بھومی کی تاریخ اور جدوجہد‘ کے عنوان سے اس دستاویز میں کسی شخص یا ادارے پر کوئی مخصوص الزام نہیں لگایا گیا۔ اس میں رام جنم بھومی تحریک کے برسوں کے دوران پیش آنے والے واقعات اور تحریک کے آگے بڑھنے کا مختصر احوال دیا گیا ہے۔

سال 1989 میں ایودھیا میں منعقد ہونے والے ’رام شلا پوجن‘ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے،’چھ کروڑ عقیدت مندوں سے رابطہ کرکے شری رام جنم بھومی نیاس [ٹرسٹ] کے کھاتے میں 8.25 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔‘

تاہم، دی وائر آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا ہے کہ یہ خط واقعی چمپت رائے نے ہی لکھا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ