اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم میں فائزہ یونس کا نام شامل کرنے کی درخواست مسترد، عدالت کا ناصر خان خٹک کی درخواست پر فیصلہ

images 11 4


اسلام آباد کی عدالت نے نیشنل سائبر کرائم میں درج ایف آئی آر نمبر 67/25 میں صحافی فائزہ یونس کا نام شامل کرنے کے لیے ناصر خان خٹک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست خارج کر دی ہے۔
ناصر خان خٹک نے فائزہ یونس کا نام ایف آئی آر میں شامل کروانے کے لیے دفعہ 22-A کے تحت درخواست دائر کی تھی، جس پر ایڈیشنل سیشنز جج اسلام آباد ویسٹ عبدالحفیظ میمن نے 16 جنوری 2026 کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ
ایف آئی آر میں دفعات کے اندراج یا اخراج کا اختیار عدالتِ سیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ یہ اختیار قانون کے مطابق دیگر متعلقہ فورمز کو حاصل ہے۔
اگر تفتیش کے دوران کسی قانونی کمی یا خامی کی نشاندہی ہو تو متعلقہ مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے پاس اس کی اصلاح کے مناسب اختیارات موجود ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 22-A کے تحت اس ابتدائی مرحلے پر ایسی درخواست دائر کرنا قبل از وقت اور غیر موزوں ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے خود تسلیم کیا کہ اس نے پہلے متعلقہ مجسٹریٹ سے رجوع نہیں کیا جو کہ قانونی طریقہ کار کے مطابق درست فورم تھا۔
ان تمام نکات کی بنیاد پر عدالت نے درخواست کو "میرٹ لیس” (بے بنیاد) قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔ تاہم عدالت نے درخواست گزار کو یہ حق دیا کہ وہ قانون کے مطابق کسی مناسب اور متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔یہ فیصلہ صحافی فائزہ یونس کے لیے ایک اہم قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کے خلاف ایف آئی آر میں نام شامل کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔صحافتی حلقوں میں اس فیصلے کو آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو صحافیوں کے خلاف مبینہ بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائیوں کے خلاف ایک مضبوط عدالتی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ