یوکرین کو برطانیہ کی حمایت، روس-برطانیہ کشیدگی میں اضافہ، ماسکو نے اپنا سفیر واپس بلا لیا


یوکرین کے لیے برطانیہ کے مسلسل اعلانِ حمایت کے باعث روس اور برطانیہ کے مابین سفارتی کشیدگی میں شدت آگئی ہے۔ کریملن نے لندن میں تعینات اپنے سفیر آندرے کیلن کو واپس بلا لیا ہے، تاہم ان کی جگہ کسی نئے سفیر کی نامزدگی کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات مزید کمزور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
برطانوی اخبار "دی ٹائمز” کی رپورٹ کے مطابق آندرے کیلن، جو سات سال سے زائد عرصے تک برطانیہ میں روس کے سفیر رہے، نے ۲۱ جولائی کو اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔ ماسکو کی وزارتِ خارجہ نے تاحال ان کے جانشین کے لیے کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا، اور سفارت خانے کے عملے کو بھی اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں کہ نیا سفیر کب مقرر کیا جائے گا۔ فی الحال سفارت خانے کے امور چارج ڈی افیئرز سنبھال رہے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی حکام نے یوکرین کے لیے "سو فیصد حمایت” جاری رکھنے کا اعادہ کیا، جبکہ ماسکو نے یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین کے اندر گہرے حملوں کے لیے برطانوی ساختہ ڈرونز کے مبینہ استعمال پر سخت ردعمل اور نتائج کی دھمکی دی تھی۔
ایک حملے میں ۱۰ روسی شہریوں کی ہلاکت کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی یوکرین کو خبردار کیا کہ اس نے "تباہی کا دروازہ” کھول دیا ہے۔ پوتن نے سنیچر کے روز کہا: "کیف کی حکومت ہماری معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی۔ اس نے کیا کیا؟ اس نے خود یہ پینڈورا کا ڈبہ کھول دیا۔ ٹھیک ہے، تو اب آپ اپنے انتہائی حساس اقتصادی شعبوں کو نشانہ بنانے والے جواب کا انتظار کریں۔” اس سے قبل لندن میں روسی سفارت خانے نے بھی غیر متعینہ نتائج کی دھمکی دی تھی۔ سفارت خانے کے ترجمان نے کہا: "ہم نے یہ امید چھوڑی ہے کہ اگر برطانیہ اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے تو ممکنہ طور پر زیادہ تعمیری اور باوقار مکالمہ بحال ہو سکتا ہے۔”
واضح رہے کہ جون ۲۰۲۴ء میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ سفارتی تعلقات کی سطح کم کرنا ان ریاستوں کے لیے ایک معیاری اقدام ہے جو غیر دوستانہ یا مخاصمانہ رویے کا مظاہرہ کریں۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد لٹویا، لتھوانیا اور ایسٹونیا کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے سفارتی اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ