برطانوی پارلیمنٹ میں ہنگامہ: دو اراکین وزیراعظم کو ”جھوٹا” کہنے پر ایوان سے نکالے گئے

su 210426 d


لندن — برطانوی پارلیمنٹ میں اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب دو اراکین پارلیمنٹ کو ہاؤس آف کامنز سے باہر نکال دیا گیا۔ ریفارم یوکے کے لی اینڈرسن اور ”یور پارٹی” کی زارہ سلطانہ نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر پر برسرعام دروغ گوئی کا الزام عائد کیا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکہ میں سابق برطانوی سفیر لارڈ پیٹر مینڈیلسن کی برطرفی کے معاملے پر بحث جاری تھی۔ مینڈیلسن کو اپنے عہدے سے ہٹایا گیا کیونکہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین دستاویزات میں ان کا نام سامنے آیا۔
اجلاس کے دوران لی اینڈرسن نے کھلے الفاظ میں وزیراعظم پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا۔ اسپیکر لنڈسے ہوئل نے انہیں الفاظ واپس لینے کا حکم دیا، مگر اینڈرسن نے انکار کر دیا اور انہیں ایوان سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد زارہ سلطانہ نے وزیراعظم کو ”واضح جھوٹا” قرار دیا اور اسپیکر کے حکم کے باوجود نشست چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ارکان کی رائے شماری کے بعد سلطانہ کو باضابطہ طور پر معطل کر دیا گیا۔
سلطانہ نے معطلی کے بعد سوشل میڈیا پر اپنا موقف دہرایا اور وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ پوسٹ